مسلمان: ملک میں کم، جیل میں زیادہ

Muslims crime graph in Iindaiاگر آپ ہندوستان میں مسلمان ہیں تو اس بات کا اندیشہ زیادہ ہے کہ آپ کو جیل میں ہوں گے، تقریبا دوگنا زیادہ. اگر آپ کسی سیکولر پارٹی کی حکومت والی حکومت میں رہ رہے ہیں تو محفوظ محسوس کرنے کا آپ کے لئے کوئی وجہ نہیں ہے. انڈیا ٹوڈے کی تقریبا چار ماہ کی پڑتال، معلومات کے حقوق قانون کے تحت 30 سے ​​زیادہ جیلوں سے متحرک گئے اعداد و شمار اور مرکزی وزارت داخلہ کے براہ راست ماتحت کام کرنے والی تنظیم قومی جرم ریکارڈ بیورو (اےنسياربي) کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو جیل بھیجنے کے معاملے میں سیکولر-کمیونل حکومتوں کا امتیاز نہیں ہے.

طویل لیفٹ فرنٹ کا گڑھ رہے مغربی بنگال میں ہر چوتھا شخص مسلمان ہے، پر وہاں بھی جیلوں میں تقریبا نصف قیدی مسلمان ہیں. بنگال میں کبھی کسی فرقہ پرست پارٹی کا راج نہیں رہا. یہی نہیں، مہاراشٹر میں ہر تیسرا تو اتر پردیش میں ہر چوتھا قیدی مسلمان ہے. یہ حالت ٹھیک ویسی ہے جیسی امریکی جیل میں سیاہ فام قیدیوں کی ہے. امریکی جیلوں میں قید 23 ملین لوگوں میں نصف سیاہ فام ہیں جبکہ امریکی آبادی میں ان کا حصہ صرف 13 فیصد ہے.

جموں و کشمیر، پڈوچیری اور سکم کے علاوہ ملک کے عموما ہر صوبے میں مسلمانوں کی جتنی آبادی ہے، اس سے زیادہ تناسب میں مسلمان جیل میں ہیں. 2001 کی مردم شماری کے مطابق، ملک میں مسلم آبادی 13.4 فیصد تھی اور دسمبر، 2011 کے اےنسياربي کے اعداد و شمار کے مطابق، جیل میں مسلمانوں کی تعداد تقریبا 21 فیصد ہے.

ترنمول کانگریس کوٹے سے یو پی اے حکومت میں وزیر مملکت رہے موجودہ ایم پی سلطان احمد کہتے ہیں، ” ہم لوگ خود کو اقلیتی کہتے ہیں لیکن جیل میں ہم اکثریت ہیں. یہ ہمارے ملک اور معاشرے کے لئے بدقسمتی کی بات ہے. “جیسا کہ قومی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین وجاہت حبیب اللہ کہتے ہیں، ‘

حق اطلاعات کے تحت ملی معلومات کے مطابق، 2 ستمبر 2012 کی صبح تک علی پور سینٹرل جیل میں بند 1،222 التواء قیدیوں میں 530 مسلمان ہیں. یوپی کے غازی آباد جیل کے التواء 2،200 قیدیوں میں 720 مسلمان تھے. دیگر جیلوں سے ملے اعداد و شمار بھی چونکانے والے ہیں، جسے راجيوار مرتب کیا گیا ہے. اسی سال مہاراشٹر کی جیلوں میں کئے گئے ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز (ٹياےس) کے مطالعہ سے مسلمانوں کو لے کر پولیس اور عدالتی نظام کا تعصب ظاہر ہوتا ہے.

مطالعہ میں شامل کئے گئے زیادہ تر قیدیوں کو دہشت گردی یا منظم جرائم سے واسطہ نہیں تھا. ان میں زیادہ تر (71.9 فیصد) باہمی تنازعہ میں الجھے تھے اور پہلی بار معمولی جرم کے الزام میں جیل جانے والوں کی تعداد 75.5 فیصد تھی. Muslim in Jail

اقلیتی امور کے مرکزی وزیر کے. رحمان خان کہتے ہیں، ” زیادہ تر مسلمان معمولی جرم میں بند ہوتے ہیں. انہیں قانونی امداد نہیں ملتی اور مفت قانونی مدد کے بارے میں معلومات نہیں ہوتے. شہری اور دیہی علاقے میں ان کے پاس پولیٹکل پاور نہیں رہتی “. لکھنؤ ضلع جیل کے سپرنٹنڈنٹ ڈيار موریہ خان سے اتفاق کرتے ہیں، ” جیل میں بند تقریبا 90 فیصد مسلم قیدیوں پر نشے کا کاروبار کرنے، چوری، لوٹ جیسے معاملے چل رہے ہیں. سنگین جرائم میں بند مسلمانوں کی تعداد کافی کم ہے. ”

کس جرم کی سزا؟
میرٹھ کی ضلع عدالت میں روزانہ چکر لگانے والی 51 سالہ افروز نے جوانی کی دہلیز پر قدم رکھ رہے اپنے دونوں بیٹوں نور عالم قریشی اور شاہ عالم قریشی کے لئے زمین خریدی، جس کا سودا بچولئے براؤن نے کرایا. براؤن نے افروز کے لئے زمین کا سودا گھوسيپر رہائشی جے پرکاش سے 1.40 لاکھ روپے. میں کرایا، لیکن براؤن مبینہ طور پر پیسہ لے کر بھاگ گیا اور جے پرکاش نے زمین دینے سے انکار کر دیا. افروز نے ضلع کلکٹر کو تحریری طور پر براؤن اور جے پرکاش کے خلاف شکایت کی.

اس کے دو دن بعد ہی براؤن کے بھائی فرید نے افروز کے دونوں بیٹوں کے خلاف اپنے بھائی کے اغوا کی شکایت درج کرا دی، تاہم فرید نے ڈياجي دفتر کو حلف نامہ دے کر مانا کہ براؤن شیطانی مجرم ہے اور افروز کے بیٹوں کا کوئی قصور نہیں ہے. ہائیکورٹ نے دیگر معاملے میں براؤن کو پیش کرنے کا حکم دیا تو پولیس نے فرید کو پکڑا لیکن اس نے اپنی جان بچانے کے لئے براؤن کے اغوا کا الزام دہرا دیا. اس کے بعد پولیس نے افروز کے بیٹے 17 سالہ نور عالم کو گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا.

افروز کہتی ہیں، ”14 سال پہلے شوہر کی موت ہو گئی. بچوں کو نہیں پڑھا پائی، اب سوچا تھا کہ زمین لے کر بچے کچھ کام کر لیں گے. لیکن ہمارے پاس کچھ نہیں بچا. “افروز کا کیس لڑ رہے میرٹھ کورٹ میں وکیل وصال احمد کہتے ہیں، ” افروز کو زمین بھی نہیں ملی، پیسہ بھی گیا اور بیٹا ملزم بن گیا.” یہ معاملہ اس ریاست کی پولیس کی طریقہ کار کی طرف اشارہ کرتا ہے جو 1980-90 کی دہائی میں فرقہ واریت کی آنچ سے خود کو نہیں بچا پائی.

پولیس اور انصاف کے نظام کو نظر انداز کا ذکر کرتے ہوئے جے این یو کے پروفیسر اور سماجی علوم کے ماہر لطف کمار کہتے ہیں، ” پولیس اور عدالتی نظام میں اقلیتوں کے خلاف عام تعصب ہے. اعداد و شمار سے واضح ہے کہ سیاسی نظریات سے بہت فرق نہیں پڑتا ہے اور ہر پارٹی کی حکومتیں مسلمانوں کو گرفتار کرنے یا سزا دلانے میں آگے ہیں. ”

وہ سماجی و اقتصادی تعلیمی پسماندگی کو مسلمانوں کے جیل میں زیادہ ہونے کی ایک اہم وجہ مانتے ہیں. پولیس کی گرفت میں زیادہ تر ایسے ہی لوگ پھنستے ہیں جو قانونی دفاع کرنے کے قابل نہیں ہیں. وہ کہتے ہیں کہ پارلیمنٹ پر حملے میں ملزم بنائے گئے دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر گیلانی جیسے تعلیم یافتہ اور قابل لوگوں کو بھی خود کو بے قصور ثابت کرنے میں 10 سال لگ گئے.

سب سے بڑا سوال: آخر کیوں؟
ظاہر ہے، مسلمانوں کے اتنے بڑے پیمانے پر جیل میں ہونے کی وجہ جاننے کے لئے سماجشاستريي مطالعے کی کمی ہے، پھر بھی کچھ وجوہات پر اتفاق رائے نظر آتی ہے: پولیس اور نيايتتر کا تعصب، غربت، ناخواندگی اور سیاسی نظام میں رسوخ کی کمی. بی ایس ایف کے سابق ڈائریکٹر جنرل پرکاش سنگھ کہتے ہیں، ” مسلم جدید تعلیم لیں گے نہیں لیں گے، مدرسے میں ہی پڑھنے جائیں گے اور پھر کہیں گے ہمارے لوگ اےےس نہیں بنتے، پولیس میں کم ہیں. بعد میں پولیس پر الزام لگائیں گے. “Muslim in Jail

مسلمانوں کے جیل میں ہونے کی وجہ پر سی پی ایم لیڈر اور سابق ممبر پارلیمنٹ محمد سلیم نے گزشتہ لوک سبھا میں رہنما رہتے ہوئے ایک سوال پوچھا تھا، ملک میں ایسے کتنے لوگ ہیں جو 10 لاکھ روپے. کا انکم ٹیکس ریٹرن بھرتے ہیں اور کسی مقدمے میں مجرم ثابت ہوئے ہیں؟ بقول سلیم، ان کا جواب ملا تھا، کوئی نہیں. وہ کہتے ہیں، ” جو شخص یا معاشرے پاورفل ہے اور پولیس، پرسيكيوشن، وکیل خریدنے کی صلاحیت رکھتا ہے اس کی سماعت ہر جگہ ہوتی ہے. لیکن بدقسمتی سے مسلم معاشرے ایسا نہیں کر پاتا. ”

مہاراشٹر کی جیلوں میں کئے گئے ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز (ٹياےسےس) کے مطالعہ سے پتہ چلا کہ 58 فیصد قیدی یا تو ان پڑھ یا پھر پرائمری پاس تھے.

43.6 فیصد قیدیوں کی حالت ایسی نہیں تھی کہ اپنے لئے وکیل رکھ سکیں. 61 فیصد کو یہ پتہ نہیں تھا کہ جیل میں کوئی این جی او ہے، جن سے وہ مدد مانگ سکتے ہیں. اس معاشرے کے جیل میں زیادہ ہونے پر جمعیت علمائے ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی کی دلیل ہے، ” معاشرے میں تعلیم کی کمی، پسماندگی زیادہ ہے. خود سچر کمیٹی نے بھی مانا ہے کہ مسلمانوں کی حالت دلتوں سے بھی بدتر ہے. “وہیں، جامعہ ٹیچرس سلڈےرٹي ایسوسی ایشن (جےٹيےسے) کی منیشا سیٹھی کا خیال ہے کہ دوسری چیزوں کے علاوہ اس میں ہمدردی نہ رکھنے والے ججوں اور ایسی ضمانت انتظامات کا بھی شراکت ہے جو صرف دولت والوں کا ہی طرف لیتی ہے.

یہ صورت حال تب ہے جب اپيسي کی دفعہ 436 اور 436 اے میں اس بات کا صاف رزق ہے کہ کوئی بھی التواء قیدی اگر اپنے اوپر لگے جرم میں ہونے والی سزا کی آدھی مدت پوری کر چکا ہو تو اسے ذاتی بانڈ پر ضمانت دی جانی چاہئے. یوپی کے ڈاسنا جیل کے سپرنٹنڈنٹ ويرےش راج شرما کہتے ہیں، ” جیل انتظامیہ اور عدالت اب ہوش ہے. جب سے یہ دفعہ عمل میں آئی ہے، جیلوں میں ایسی صورت حال نہیں ہے کہ چھوٹے موٹے جرم میں لوگ برسوں سلاخوں کے پیچھے صرف اس وجہ رہیں کہ کوئی ضمانت دینے والا نہیں ہے. ”

شرما کے دعوے کو مان لیا جائے تو جن مقدمات میں طویل عرصے بعد کورٹ بری کر دیتا ہے، اس میں پولیس انتظامیہ کی ذمہ داری کون طے کرے گا؟ لیڈر اور وزیر ہر بار اس طرح کی کارروائی سے پولیس کے حوصلے گرنے کا بہانہ بناتے ہیں. حبیب اللہ کہتے ہیں، ” حیدرآباد میں 22 کیس ایسے تھے جس میں عدالت نے من گھڑت قرار دیتے ہوئے لوگوں کے ساتھ ناانصافی بتایا. میں نے اس معاملے میں آندھرا کے وزیر اعلی کرن کمار ریڈی سے مجرم پولیس والوں پر کارروائی کا مطالبہ کیا، تو انہوں نے پولیس کے نظم و ضبط پر خراب اثر پڑنے کی بات کہی. ”

اگر سچر کمیٹی کی سفارشات پر عمل کیا جاتا تو پولیس کو مسلم نفسیات کی تشخیص میں آسانی ہوتی اور اس کے حوصلے گرنے کی نوبت نہیں آتی. کمیٹی نے پولیس فورس میں مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ اور مسلم اکثریتی علاقوں میں مسلمان پولیس افسروں کی تقرری کی سفارش کی تھی.

جسٹس سچر کہتے ہیں، ” دہلی میں سیکولر حکومت ہے، لیکن دہلی پولیس میں اب بھی صرف دو فیصد مسلمان ہیں ” (ملاحظہ باکس: سیکولر حکومتیں جواب دیں). وزارت داخلہ کے مطابق، ملک میں 16.6 لاکھ پولیس فورس میں 1.08 لاکھ مسلمان ہیں، یعنی ان کا قریب 6 فیصد نمائندگی ہے. لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے تقریبا نصف (46،250) جموں و کشمیر میں ہیں.

دہشت گردی کے نام پر کہر
دہلی کے محمد عامر خان کا معاملہ شریعت کے تعصب اور نشٹھرتا کی کہانی بتاتا ہے. دسمبر، 1996 اور اکتوبر، 1997 میں دہلی، روہتک، سونی پت اور غازی آباد میں تقریبا 20 دیسی بم دھماکوں کے الزام میں گرفتار تب 18 سالہ عامر کو 14 سال بعد عدالت نے رہا کر دیا. لیکن ان سالوں میں ان کی دنیا اجڑ گئی. گرفتاری کے تین سال بعد والد ہاشم خان معاشرے کے بائیکاٹ اور انصاف کی امید چھوڑ کر دنیا سے چل بسے تو دہائی بھر کی لڑائی کے بعد 2008-09 میں آخر عامر کی ماں کی ہمت بھی جواب دے گئی. وہ مفلوج ہو گئیں. اسی سال جنوری میں جیل سے رہا عامر کہتے ہیں، ” آج بھی اپنی والدہ کے منہ سے ‘بیٹا’ لفظ سننے کو ترستا ہوں. “muslim in jail

مسلم نوجوانوں پر ظلم کے معاملے میں سی پی ایم کے جنرل سکریٹری پرکاش کرات کی قیادت میں ایک وفد نے 17 نومبر کو صدر پرنب مکھرجی سے بھی ملاقات کر 22 مسلمانوں برسوں بعد کورٹ سے بری ہونے کا ذکر کرتے ہوئے ایک میمو بھی سونپا. اس وفد میں شامل عامر نے بتایا، ” میں نے صدر صاحب سے کہا کہ ہم ماضی کو بھولنا چاہتے ہیں اور بہتر مستقبل بنانا چاہتے ہیں، جس میں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے. ”

کرات کا کہنا ہے کہ، ” پولیس انتظامیہ مسلمانوں کے تئیں تعصب میں مبتلا ہے. جب بھی کوئی واردات ہوتی ہے، مسلم نوجوانوں کو پکڑا جاتا ہے. “اترپردیش کے اقلیتی بہبود امور کے وزیر اعظم خان بھی مانتے ہیں، ” کئی بے قصور مسلم نوجوانوں کو دہشت گرد بتا کر جیل میں ٹھونس دیا گیا ہے. یہی نہیں فرقہ وارانہ فسادات میں بھی سب سے زیادہ یہی طبقہ متاثر ہوا ہے. مسلمان ہی فسادات میں مارے جا رہے ہیں اور پولیس انہی لوگوں کو ملزم بنا کر جیل میں بند کر رہی ہے. “لیکن اس کی روک تھام کے لئے ابھی تک کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کئے گئے ہیں.

پرکاش سنگھ مانتے ہیں، ” پولیس سے بھی غلطی ہو سکتی ہے، لیکن مکمل طریقہ کار ہی غلط ہے ایسا نہیں کہہ سکتے. پولیس میں بھی کچھ خراب لوگ ہو سکتے ہیں، اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر معاملے میں پولیس کو نشانہ بنایا جائے. ”

بہت سے معاملات میں تعلیم مسلم نوجوان صرف اپنے کمیونٹی کی وجہ سے پولس ظلم کا شکار ہو جاتا ہے. مدھیہ پردیش کے کھنڈوا کے 68 سالہ عبد وکیل کے اپنے خاندان کو سیمی کے نام پر پرتاڈ़ت مانتے ہیں. ان کے چھوٹے بیٹے محمد اظہر کو سیمی کا دہشت گرد بتا مہاراشٹر پولیس نے اورنگ آباد میں 26 مارچ، 2012 کو انکاؤنٹر میں مار ڈالا. اظہر کی والدہ اخلاق بی کی آنکھیں بھر آتی ہیں، ” اظہر اندور سے کمپیوٹر ہارڈ ویئر کا کورس کرکے کام کے لئے تلاش میں ایک کمپنی کا انٹرویو دینے اورنگ آباد گیا تھا، اس کے بعد انہیں تو بس کھنڈوا پولیس سے یہ اطلاع بھر ملی کہ ان کا بیٹا انکاؤنٹر میں مارا گیا ہے. “اس کے خاندان کو نہیں معلوم کہ بیٹے اظہر کا جرم کیا تھا.

والد کی سی بی آئی انکوائری کا مطالبہ آج تک نہیں سنی گئی، الٹی پولیس نے عبد وکیل کے دو اور بیٹوں ركيب اور راشد کو بھی 12 مئی 2012 کو پوچھ گچھ کے لئے اٹھا لیا اور سیمی کا بتا کر جیل بھیج دیا. شہر قاضی سید انصار علی کہتے ہیں، ” مسلمانوں کے تئیں پولیس زیادتی کے سبب ہی جیلوں میں ان کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے. حکومت کسی بھی پارٹی کی رہی، مسلمان ہمیشہ پرتاڈ़ت کئے گئے. “سیمی کے نام پر نوجوانوں کو گرفتار کرنے کی پولیس کی کارروائی پر عدالتیں کئی بار ناراضگی بھی ظاہر کر چکی ہیں.

اسی سال سپریم کورٹ کو گجرات پولیس کو یہ ہدایت دینی پڑی، ” اس بات کا یقین کریں کہ کسی بے گناہ کے لیے اس دکھ نہ جھیلنا پڑے کہ ‘میرا نام خان ہے، لیکن میں دہشت گرد نہیں ہوں. “واضح رہے کہ ریاست میں پوٹا میں 280 لوگ کو گرفتار کیا گیا جن 279 مسلمان تھے. یہی نہیں، پوٹا اور ٹاڈا میں ثبوت پیش کرنے کے شارٹ کٹ کے باوجود، ان معاملات میں سزا پانے کی شرح نہ ہونے کے برابر رہی ہے. ٹاڈا کے تحت گرفتار صرف 1.5 فیصد کو سزا ملی. پوٹا کا ریکارڈ تو اور برا ہے: 1،031 گرفتار لوگوں میں سے صرف 13 لوگوں کو ہی سزا ملی.

تعصب یا سچ کا سامنا؟

سابق اولمپین ہاکی کھلاڑی اور سابق مرکزی وزیر اسلم شیر خان کہتے ہیں، ” مدھیہ پردیش کی بی جے پی حکومت مسلمانوں کے تئیں انتہائی سخت ہے اور انہیں زیادہ تعداد میں جیل بھیج کر انتخابی فائدہ کے لئے ان کی غربت-پسماندگی کی کہانی بنتي ہے. “اس بارے میں سیاسی ایمانداری سے كبولناما مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلی اور کانگریس کے قومی جنرل سکریٹری دگ وجے سنگھ کا ہے. وہ کہتے ہیں، ” اپنے خلاف ہو رہے پولس ظلم کو لے کر اگر مسلمان بے بس محسوس کر رہے ہیں تو یہ کانگریس کی بھی کمزوری ہے. ”

لیکن شیوراج سنگھ چوہان حکومت میں اقلیتی بہبود کے وزیر اجے وشنوي کہتے ہیں، ” ایک رات میں چیزیں تبدیل نہیں کر سکتیں، لیکن ہماری کوشش سے تبدیلی محسوس ہو رہا ہے. ملک میں کسی بھی گروپ کے جرم کے پیچھے غربت اور ناخواندگی وجہ ہے، جب یہ مسئلہ ختم ہو جائے گا، امولچول تبدیلی نظر جائے گا. ”

تاہم پرکاش سنگھ انڈیا ٹوڈے سے کہتے ہیں، ” پولیس کسی کو گرفتار کرتی ہے تو اس کا نسل، ذات مذہب نہیں دیکھتی. اگر کوئی دہشت گرد واردات میں پکڑا جائے تو کیا ہم نے پہلے اس نسل پوچھیں؟ کیا پولیس کسی کو گرفتار کرنے سے پہلے اےنسياربي سے اعداد و شمار پوچھنے جائے. اگر کوئی جرم میں ملوث ہے تو پولیس اس کی گرفت ہے. کیا ہو گیا ہے اس ملک کو؟ ہر چیز میں ووٹ بینک، مذہب شامل کیا جا رہا ہے، کسی کا کوئی اصول نہیں ہے.اگر پولیس سے اتنی دقت ہے تو پولیس نظام کو ہی ختم کر دیجئے، پھر دیکھئے کیا ہوتا ہے. ”

جےٹيےسے کی صدر سیٹھی کہتی ہیں، ” پولیس والے پہلے مان لیتے ہیں کہ جیلوں میں مسلمانوں کی زیادہ تعداد ان دہشت گرد حملوں یا فرقہ وارانہ فسادات میں ملوث ہونے کا ہی نتیجہ ہے. “پندرہ روزہ مللي گزٹ کے ایڈیٹر جپھرل اسلام خان کہتے ہیں، ‘ ‘پولیس نے جج کا کام ختم کر دیا ہے. وہ کسی ملزم کو پکڑتے ہیں تو اسے مجرم قرار دیتے ہیں اور میڈیا میں اس مقدمے کے بغیر ہی مجرم قرار دے دیا جاتا ہے. ”

تو کیا معاملہ اتنا سیدھا ہے کہ اس ملک کی پولیس اور عدالتی نظام ایک خاص کمیونٹی کے خلاف جھکی ہوئی ہے. یہ مکمل سچ نہیں ہے. اقلیتی اور اکثریتی کی پیچیدگیاں کسی ایک برادری کے خلاف کام نہیں کرتیں. جموں و کشمیر کا بہترین مثال ہے. صوبے میں 66.97 فیصد آبادی مسلمانوں کی ہے اور اس کے مقابلے میں کافی کم صرف 46.93 فیصد قیدی ہی مسلمان ہیں. وہاں اعداد و شمار کا ریاضی مسلمانوں کے حق میں جھکا ہوا نظر آتا ہے.

هتےشيو کی حقیقت
سچر کمیٹی رپورٹ نے کمیونسٹوں کی کافی رسوائی کرائی تھی. ملک میں مسلمانوں کی سب سے بدتر حالت مغربی بنگال میں تھی. لیفٹ فرنٹ کے بعد مغربی بنگال میں حکومت میں آئی ترنمول کانگریس کو بھی دیر سویر اس سوال سے ٹکرانا گے.

Google Translate for Business:Translator ToolkitWebsite Tran

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *