Dr Saleem Wahid Saleem – an introduction ڈاکٹر سلیم واحد سلیم ۔ایک تعارف

saleem wahid saleem

ڈاکٹر سلیم واحد سلیم ۔ایک تعارف (زیرِطبع کلیاتِ ڈاکٹر سلیم واحد سلیم سے)

اردو ادب یہ سرسبز و شاداب چمن ان سینکڑوں ادیبوں، شاعروں اور قلم کاروں کی رعنائیِ فکر اور جولانئیِ قلم سے عبارت ہے جنہوں نے ایک خاموش خدمت گار کی حیثئیت سے اس کو سنوارنے اور اس کا معیار بلند کرنے میں اپنی توانائیاں صرف کردیں۔ انہی خدمتگاروں میں سے ایک ڈاکٹر سلیم واحد سلیم (۱۹۸۱ ۔۱۹۲۱) تھے جنہوں نے نہایت خاموشی سے اردو کی بیش بہا خدمت انجام دی۔

ہندوستان کے کشمیری النسل بینکر خلیفہ عبدالواحد بینک آف تہران میں جنرل منیجر کے عہدے پر فائز تھے۔ اسی دوران قاجاری شہزادی محترمہ فخرالسادات سے آپ کا نکاح عمل میں آیا۔انہیں کے بطن سے ڈاکٹر سلیم واحد سلیم، محترمہ اختر ملک اور محترمہ شمسی تولد ہوئیں۔ ڈاکٹر سلیم واحد سلیم جب ۱۱ برس کے ہوئے تو یہ خانوادہ ہندوستان آگیا۔ محترمہ فخرالسادات کو ہندوستان کی آب و ہوا راس نہیں آئی اور وہ جلد ہی اس دنیائے فانی سے رخصت ہوگئیں۔ اس کے بعد ان تینوں بچوں کی پرورش کا ذمہ اعزہ نے اٹھایا۔ ڈاکٹر سلیم واحد سلیم کی کفالت، تعلیم و تربیت کا ذمہ علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی طبیہ کالج کے تاسیسی پرنسپل ڈاکٹر عطااﷲ بٹ نے اپنے میرس روڈ والے بنگلے ’بٹ کدہ‘ میں کی۔(’بٹ کدہ‘ پررشید احمد صدیقی کا ایک مشہور لطیفہ بھی ہے)۔ علی گڑھ سے داکٹر سلیم واحد سلیم نے بی۔یو۔ایم۔ایس کیا۔بعدہ ڈاکٹر سلیم واحد سلیم اعلیٰ تعلیم کے لئے لندن گئے جہاں سے آپ نے ایم۔آر۔اے۔ایس کی ڈگری حاصل کی اور دریں اثنا بی بی سی میں فارسی اناؤنسر کی خدمات بھی انجام دیں۔

پیدائش کے بعد ۱۱ برس ایران میں مقیم رہنے کے سبب ڈاکٹر سلیم واحد سلیم کو فارسی اور فرانسیسی زبانوں پر کافی دسترس حاصل ہو گئی تھی کیوں کہ فارسی آپ کی مادری زبان اور فرانسیسی ایران میں انگریزی کے مترادف کی حیثیت سے اسکولوں میں مروج تھی۔اردو، انگریزی، عربی اور ہندی ڈاکٹر سلیم واحد سلیم نے ہندوستان آنے کے بعد سیکھیں۔

ایران کی طرب خیزو رومان پرور فضا میں اپنی زندگی کے سنہرے دن گذارنے کے بعد اس عظیم شاعر کو لاہور جیسی مردم خیز اور علی گڑھ جیسی اردو نواز فضاؤں میں سانس لینے کا موقع بھی ملا اور انگلستان کی خیرہ کن اور ہوشربا تہذیب نے ان کے مشاہدے کو جلا بخشی۔

تقسیمِ ہند سے قبل ہندوستان کے بیشتر ادبی رسائل میں پابندی سے شائع ہونے والے اس شاعر کو قیامِ پاکستان کے بعد وہاں کی سکونت اختیار کرنی پڑی اور ان کی معیاری تخلیقات پاکستان کے تمامتر ادبی جرائد کی زینت بنتی رہیں۔ ۱۹۷۰ کے بعد ڈاکٹر سلیم واحد سلیم ترکِ دنیا کر دیا اور گوشۂِ گمنامی میں بیٹھ کر مطالعہ، تخلیق و تصنیف میں منہمک ہو گئے۔

طبعزاد شعر گوئی کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر سلیم واحد سلیم نے منظوم تراجم میں میں غیر معمولی مہارت اور چابکدستی کا ثبوت بھی دیا ہے۔جس کا سب سے بڑا مظہر ہے ’’خیامِ نو‘‘۔ یہ عمر خیام کی ۱۷۶ رباعیات کا ترجمہ مع ترمیم و اضافہ ہے اور اپنے وقت کے ماہرین مثلاً طفیل احمد اردو ادب میں ایک اضافہ ہے۔ علاوہ ازیں آپ نے تزکِ جہانگیری کا ترجمہ بھی فرمایا جو کافی پسندیدہ ہوا۔ آپ نے کچھ اور مشاہیر کی تخلیقات کے ترجمے بھی کئے جن میں شیکسپئر کے ڈرامے ’’ہیملٹ‘‘ کے ایکٹ ۳ منظر ۴، رابرٹ فروسٹ، ایملی ڈکنس، ڈبلو۔ایچ۔اوڈن، ماؤزے تنگ کی نظموں اور مختلف زبانوں کے گیتون کے تراجم شامل ہیں۔ مثلاً ماؤزے تنگ کی نظم ’’دخترانِ چین‘‘۔ ملاحظہ ہو۔

پو پھٹے کا حسن ہیں یا صبح کی پہلی کرن

رائفل شانوں سے لٹکائے ہوئے نازک بدن

تابناکی اور شجاعت کی مثالی صورتیں،

دخترانِ چین ہیں کیسی مثالی صورتیں

مشق کا میدان ہو یا جنگ کا میدان ہو

کیوں نہ نصب العین پر ان کی نظر ہر آن ہو

جذبِ گیسو و کمر ان کی نظر میں ہیچ ہے

اطلس و دیبا نگاہِ معتبر میں ہیچ ہے۔

کوہ و صحرا ان کے قدموں سے شرف سامان ہیں

کاملیت کے یہ پیکر ہیں، عمل کی جان ہیں

عشق ان کو فرض سے اور انسیت وردی سے ہے

صنفِ نازک ہوکے بھی کام ان کو جواں مردی سے ہے۔

ڈبلو۔ایچ۔اوڈن کی نظم ’’خواب‘‘ کا ترجمہ دیکھئے۔

رکھ زندہ اسے ہو جو کوئی خواب توانا

آخر یہ کوئی سنگ و گِل و خاک نہیں ہے

افلاک کے نیچے تہہِ خورشیدِ جہاں تاب

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خوش رنگ ہو جو سایۂِ پر کربِ فنا میں

یا نیند نے تابندہ و مرغوب کیا ہو

یا ابرِ بہاراں نے بنا ڈالی ہو جس کی

تابش گہر اندازئِ باراں نے بھی دی ہو

ابھرا ہو جوانی کی طرب خیز افق سے

مستی کسی معصوم خراماں نے بھی دی ہو

یا ابھرا ہو پیری کی المناک فضا ء میں

جب رس ہو نہ مس ہو نہ کسی شوخ کی چھب ہو

ہو عمر کے موسم میں شبِ موسمِ سرما

ہر رنگ نئے کرب، نئے غم کا سبب ہو

اس وقت یہی دولتِ بیدارِ دل و ذہن

بس ایک یہی خواب نباہے گا ترا ساتھ

جو دورِ گذشتہ میں تباہی کہ خوشی ہو

ہر عہد میں گل ریز رہا اور رہا ساتھ

رکھ یاد گِل و سنگ بھی ہو جائیں گے گل خیز

یہ خوابِ بہاراں جو ترے ساتھ رہے گا

یہ خواب رہا ساتھ اگر تادمِ آخر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بخشے گا تجھے دولتِ بیدارِ مسرت

اور ذہن کی وسعت کو طرب خیز ادا بھی

پھولوں کی، شگوفوں کی طراوت بھی ، مہک بھی

فوّاروں کی آوازیں بھی، پنچھی کی صدابھی

ہاں صرف ترے خواب کو حاصل ہے یہ توفیق

وہ جو ترے ذہن اور دلِ مضطر کی ہے ایجاد

جوکرب کے موسم کو طرب خیز بنا دے

اور کردے خرابے کو بھی با رونق و آباد

جو تیرے نفس ہی سے ہو تابندہ وزندہ

تابندہ و پائندہ و پرُتاب و جہندہ

ڈاکٹر سلیم واحد سلیم کی طبعزاد تمام نظمیں اردو ادب کے شاہ کاروں میں شمار کی جا سکتی ہیں۔ یہ بات میں انکا فرزند ہونے کے سبب نہیں بلکہ خود ایک شاعر اور ناقد ہونے کی حیثیت سے کہہ رہا ہوں۔ یہاں میں ایک’’عظیم شفقت‘‘ نظم پیش کررہا ہوں جس میں ڈاکٹر سلیم واحد سلیم کا نظریۂِ مساوات پوری شدت اور جملہ شعری محاسن کے ساتھ کارفرما دکھائی دیتا ہے۔

(۱) زمین پر جا بہ جا پہاڑوں کے سلسلے ہیں

جو اپنے دامن میں سبزہ و گل

اور اپنی تہہ میں کروڑوں الماس و لعل رکھ کر

طویل سایوں کے فرش کھولے ہوئے کھڑے ہیں

گھنے درخت اپنے سبز پتوں،حسیں شگوفوں سے خیم�ۂِ سایہ دار بن کر

لچکتی شاخوں کی مورچھل لے کے حدتِ آفتاب کے سامنے سپر ہیں

زمین بھی سینہ کھولتی ہے

ہر ایک دانے کو اپنے دل میں

بٹھا کے پودا، درخت پھل پھول کے منازل بھی بخشتی ہے

اور آسماں کی بلندیوں کی سمیٹنے کی بلندیاں بھی

نمو کے اندازِ بیکراں میں ابھارتی ہے

(۲) ہر ایک جھیل اور ہر ایک دریا

ہر آبشار اور ہر اک سمندر

یہی ترانہ سنا رہا ہے

کہ کوئی پیاسا نہ رہنے پائے

کہ تشنگی کا شکنجۂِ بے اماں کسی کو نہ کسنے پائے

(۳) عظیم فطرت کی شفقتوں میں

ہر اک کا حصہ مساویانہ

کروڑوں سالوں، کروڑوں فصلیں

اُگیں مگر آدمی ہے اب تک

خود آدمی ہی کی چیرہ دستی وغصب کوشی کا ہی نشانہ

(۴) ہماری انسانیت یہی ہے

کہ ہم اسی شفقتِ معظم

اسی محبت، اسی صداقت کو سو بہ سو کو بہ کو لٹائیں

ڈاکٹر سلیم واحد سلیم نے تقیمِ ہند کے بعد پاکستان میں رہنا پسند کیا کیوں کہ آپ کا آبائی گھر اور بیشتر اعزہ پہلے ہی سے لاہور اور دیگر شہروں میں آباد تھے جبکہ آپ کی اہلیہ محترمہ حبیبہ خاتون (امِّ حبیبہ بیگم) کے والدین نے اپنی بیٹی کو پاکستان جانے کی اجازت نہیں دی۔ اور اس طرح بیگم امِّ حبیبہ اور مولف (مسلم سلیم) ہندوستان ہی میں رہ گئے اور نہ چاہتے ہوئے بھی افرادِ خانوادہ دو الگ اور متوازی راستوں کے راہی ہو گئے۔ اپنے والد ڈاکٹر سلیم واحد سلیم کے ۱۹۸۱ میں انتقال کے فوراً بعد میں بھوپال سے لاہور پہنچا اور ان دنوں سخت معاشی بحران کے باوجود ڈاکٹر صاحب کا تمامتر کلام فوٹو اسٹیٹ کروا کر لے آیا کیونکہ اعزہ نے اوریجنل میرے حوالے کرنے سے یہ کہہ کر انکار کردیا تھا کہ یہ انکے عزیز رشتہ دار کی آخری نشانی ہے۔ مجھے طمانیت ہے کہ آج انہی فوٹو کاپیز کے سبب ڈاکٹر سلیم واحد سلیم کا بیشتر کلام اور رشحاتِ قلم محفوظ ہیں۔

ڈاکٹر سلیم واحد سلیم کی ان دستاویز ات میں ان کے شعری مجموعے رنگ و سنگ، شانِ عجم نہ کر قبول، غزلیات،فارسی کلام اور ’’خیامِ نو‘‘ شامل ہیں۔ آخر الذکر کتاب عمر خیام کی ۱۷۶ رباعیوں کا ترجمہ ہے جسے ڈاکٹر سلیم صاحب کے معاصرین نے، جن میں نقوش کے مدیر طفیل احمد بھی شامل ہیں، عمرخیام سے آگے کے سفرسے تعبیر کیا ہے۔ بقول طفیل احمد۔

’’اتفاق کی بات ہے کہ اسی ۱۹۶۷ میں عمر خیام کی رباعیات کا منظوم ترجمہ (غیر مطبوعہ) صفی لکھنوی کے ہاں دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ آج ڈاکٹر سلیم واحد سلیم صاحب نے عمر خیام کی رباعیات کا منظوم ترجمہ دکھایا۔ لطف صفی مرحوم کے ترجمے میں بھی آیا تھا اور اس میں بھی آیا۔ ایک کیفیت اس میں بھی تھی اور ایک اس میں ہے ۔ اُس میں استادانہ شان زیادہ تھی۔اِس میں تڑپ زیادہ ہے۔ اُس میں سوج بوجھ زیادہ تھی اِس میں مفکرانہ شان زیادہ ہے۔یہ کام اتنا مشکل تھا کہ جو بڑے بڑے عالموں اور فاضلوں کے بھی بس کا نہ تھا۔خیام تقریباً ۷ سو برس پہلے پیدا ہوا۔اس کے سوچنے کا انداز اس وقت کا تھا مگر وہ زمانے میں اپنے زمانے سے آگے ہی تھا۔مگر پھر بھی ۷ سو برس کا وقفہ بڑا وقفہ ہے۔ ڈاکٹر سلیم واحد سلیم صاحب نے اس انداز سے ترجمہ کیا ہے اور اس میں ایسے سائنسی مطالب کو بھی پیشِ نظر رکھا ہے کہ اُس زمانے کی ساری ایسی کوتاہیوں کا بھی ازالہ کردیا ہے۔

اسی طرح ادبِ لطیف کے مدیر ناصر زیدی لکھتے ہیں۔’’عمر خیام کی رباعیات یوں تو متعدد بار اصل اور ترجموں کی شکل میں پڑھ کر محظوظ ہوا ہوں مگرجناب ڈاکٹر سلیم واحد سلیم نے جو عمر خیام کی پونے دو سو رباعیوں کا منظوم ترجمہ کیا ہے اسے حال ہی میں از اول ت آخر پڑھنے اور مستفیذ ہونے کا موقع ملا۔ ڈاکٹر سلیم واحد سلیم کا کمال یہ ہے کہ جس طرح خیام نے ڈیموکریٹیز اور ایپی کیورس کے نظریۂِ حیات و کائنات کو دحدت الوجود کے نظرئیے سے ہم آہنگ کرکے روحانی مسرتوں کے حصول کی گنجائش پیدا کی تھیس ڈاکٹر سلیم واحد سلیم صاحب نے اصل ایپی کیورین فلسفے میں یہ کہہ کر تکمیلی مدارج طے کئے ہیں کہ مسرت اجتماعی ہونی چاہئے جو اقتصادی مساوات کے بغیر ممکن نہیں۔ ڈاکٹر صاحب موصوف نے ترجمے کے لئے نہایت مترنم بحر اختیار کی ہے اور مجھے یہ کہنے میں باک نہیں کہ انہوں نے نہ صرف فلسفۂِ عمر خیام کو اپنے ترجمے میں سمو دیا ہے بلکہ اکثر جگہوں پر تو ترجمہ شعری و فکری لحاظ سے اس قدر بڑھ گیا ہے کہ خیام کی رباعیاں بے کیف لگتی ہیں۔ مجھے ڈاکٹر صاحب کے اس ترجمہ کو پڑھ کر فی الواقع ایک نیا لطف، ایک نیا کیف اور ایک نیا اندازِ فکر و نظر ملا ہے اور مجھے یقینِ کامل ہے کہ اردو ادب کے سنجیدہ قارئین بھی اس منظوم ترجمے کو پڑھ کر انہی جذبات سے دو چار ہونگے جن کا اظہار میں نے کیا ہے اور اس منفرد منظوم ترجمے کو بقائے دوام حاصل ہوگا۔‘‘

اس موقع پر میں ڈاکٹر سلیم واحد سلیم کی دو رباعیاں عمر خیام کی رباعیوں کے ساتھ پیش کر رہا ہوں جن سے قارئین کو ان کے بارے میں اندازہ ہو سکے۔

خیام:

حق جانِ جہانست و جہاں جملہ بدن

و اصنافِ ملائکہ حواسِ آن تن

افلاکِ عناصر و موالیدِ اعضاء

توحید ہمین است و دگرہا ہم فن

ڈاکٹر سلیم واحد سلیم :

ہر زندہ بدن میں جاری ہیں امواجِ حیاتِ ربّانی

قدسی ہیں حواسِ انسانی، ہر تن میں ظہورِ یزدانی

افلاک و عناصر اجزاء ہیں ذی جان سب اس کے اعضاء ہیں

ممکن ہی نہیں کچھ اس کے سوا توحید کی شکلِ امکانی

خیام:

از واقعہ ای ترا خبر خواہم کرد

واں را بہ دو حرف مختصر خواہم کرد

با عشقِ تو در خاک خرد خواہم شد

با مہرِ سر توز خاک بر خواہم کرد

ڈاکٹر سلیم واحد سلیم :

ہستی کے چمن میں برگِ خزاں کی طرح میں جب ہو جاؤں گا

ہاں خاک کی چادر اوڑھ کے جب نظروں سے نہاں سو جاؤں گا

دیکھوگے تمہارے پیار نے پھر کس طرح سے آنکھیں کھولی ہیں

میں دیدۂِ نرگس بن بن کر دیدارطلب ہو جاؤں گا

نظموں کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر سلیم واحد سلیم کو غزل پر بھی مکمل عبور حاصل تھا ۔آپ کی زیادہ تر غزلیں ایک ہی لے اور آہنگ میں ہوتی تھیں۔ ایک غزل ملاحظہ ہو:۔

دستِ طلب نہ کر دراز جاہ و حشم نہ کر قبول

بن نہ گدائے روسیاہ دام و درم نہ کر قبول

تجھ پہ رہے یہ آشکار پست نہ ہو ترا وقار

جو تجھے مانگ کر ملے ناز و نِعَم نہ کر قبول

خود نہ لٹا سکے اگر گوہر و لعل و سیم و زر

ننگِ خودی ہے بخششِ اہلِ کرم نہ کر قبول

شکوہِ جورِ بیکراں کر نہ کبھی یہاں وہاں

بن کے حریفِ آسماں سوزشِ غم نہ کر قبول

زیست ہے کتنی مختصر وقفِ بہارِ غم نہ کر

لذتِ صبح عیش اٹھا شامِ الم نہ کر قبول

عظمتِ فقر پر نثار شان و شکوہِ قیصری

چن لے عرب کی سادگی شانِ عجم نہ کر قبول

دل میں خیالِ ماورا دیکھ سلیمؔ آنہ جائے

تو ہے خدا پرست اگر عشقِ صنم نہ کر قبول

فارسی کلام: چونکہ فارسی ڈاکٹر سلیم واحد سلیمؔ کی مادری زبان تھی اس لئے آپ کے فارسی کلام میں کسی تکلف اور بناوٹ کا احساس نہیں ہوتا بلکہ میرے نزدیک ڈاکٹر صاحب کی فارسی غزلوں میں زیادہ زورِ بیان اور تنوع پایا جاتا ہے۔ مثلاً:۔

نہ ماند دل مگر آتش بہ قلب و جاں باقیست

تمام سوختم و برقِ بی اماں باقیست

صدائے کوس ظفر شعر ماست بہرِ بشر

نوائے فتحِ نفس ہائے ماست در عالم

ڈاکٹر سلیم واحد سلیمؔ ایک فعال ترقی پسند شاعر و ادیب تھے اور اپنے ہم عصروں بشمول فیض احمد فیض بہترین مراسم کے حامل تھے۔ لیکن جہاں بیشتر ترقی پسند حضرات معاند حالات میں روپوش ہوگئے یا سرگرمیوں میں کمی واقع ہوگئی ڈاکٹر سلیم واحد سلیم اپنے نظریات و افکار کا اظہار بہ بانگِ دہل کرتے رہے۔ پاکستان میں جب ان پر حکومت کی سختی بڑھ گئی تو اعزہ نے انھیں انگلستان بھیج دیا۔ لیکن وہاں بھی مغربی تہذیب اور سرمایہ دارانہ نظام پر ڈاکٹر سلیم واحد سلیم کے ادبی تیر و نشتر کی بوچھاریں جاری رہیں جسکی بہترین مثال ان کی لندن میں قلمبند طویل نظم ’’ایک موسمِ سرما ‘‘ ہے۔نتیجے کے طور پر حکومتِ برطانیہ کا رویہ بھی آپ کے تئیں سخت معاندانہ ہو گیا۔ واپس پاکستان آکر ڈاکٹر سلیم واحد سلیمؔ نے جنرل ایوب کی آمرانہ حکومت کے خلاف معرکہ آرا نظم ’’خدایانِ جمہور کا فرمان‘‘ قلمبند کی۔ اس کی اشاعت کے بعد حکومت نے ڈاکٹر صاحب پر ظلم و ستم شروع کردئے۔ اس کے با وجود ڈاکٹر صاحب نے ہار نہیں مانی اور تنِ تنہا بھوک ہڑتال کرکے حکومت سے لوہا لے لیا۔ یہ بھوک ہڑتال ۱۳ دنوں تک جاری رہی اور آخر کار حکومت کی یقین دہانی کے بعد ختم ہوئی۔

ڈاکٹر سلیم واحد سلیمؔ ایک صاف ستھری، کھری اور سمجھوتوں سے مبریٰ۶۰ سالہ زندگی گذارنے کے بعد اس جہانِ فانی کو خیرباد کہہ گئے لیکن اپنے بے مثال کلام کے ذریعہ انھوں نے اپنی ذات کو لافانی بنا دیا ہے۔

مسلم سلیم

سینئر جرنلسٹ، ہندوستان ٹائمس، بھوپال

مورخہ ۲۷ نومبر ۲۰۱۰

Tagged as:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *