Barqi Azmi mourns death of Urdu lover Aslam Mahmood

بیاد عاشق کتاب اسلم محمود مرحوم احمد علی برقیؔ اعظمی کمیاب و نایاب کُتُب کے عاشق تھے اسلم محمود جیسے کتابیں ہی ہو ں جہاں میں اُن کا فقط سامانِ وجود چھوڑ گئے میراثِ ادب کا ایک ذخیرہ سب کے لئے شوق aslam mahmoodکتابوں کا تھا بیحد، گر چہ وسائل تھے محدود بشکریہ : ڈاکٹر عمیر منظر لکھنؤ ۳ مئی نادر ونایاب کتابوں کےعاشق اسلم محمود کا انتقال لکھنؤ کی معروف ادبی شخصیت اور کتابوں سے والہانہ عشق رکھنے والے جناب اسلم محمود یکم مئی کی رات میں انتقال کرگئے ۔ڈاکٹر عمیر منظر(اسسٹنٹ پروفیسر مولانا آزاد نیشنل اردو یونی ورسٹی لکھنؤ کیمپس۔لکھنؤ )نے بتایا کہ یہ اطلاع اسلم محمود صاحب کے زادے جناب ساجد محمود نے دی ۔ان کی تدفین ۲،مئی کو لکھنؤ کے نشاط گنج پیپر مل قبرستان میں ہوئی ۔پس ماندگان میں بیوہ کے علاوہ بیٹاساجد محمود ہیں۔ وہ تقریباً پچہتر سال کے تھے ۔ اسلم محمود صاحب ریلوئے بورڈ کے ایڈیشنل ممبر کی حیثیت سے ہٹائر ہوئے ۔وہ کسی زمانے میں نارتھ ایسٹ ریلولے کے ڈی آریم بھی تھے ۔ریٹائرمنٹ کے بعد اندرا نگر لکھنؤ میں مقیم تھے ۔اسلم محمود صاحب کو بچپن سے کتابیں جمع کرنے کا شوق تھا اور اس وقت ان کی ذاتی لائبریری میں پندرہ ہزار سے زائد نادر و نایاب کتابیں ہیں ۔اردو کے علاوہ انگریزی اور فارسی کی کتابیں بھی ان کے یہاں تھیں ۔کتابیں جمع کرنے کے لیے وہ کافی رقم بھی خرچ کرتے تھے ۔گھر میں علیحدہ ایک وسیع ہال اور اس کے اندر خصوصی مہارت سے تیس الماریوں کو نصب کیا گیا تھا ۔کتابوں کی دیکھ بھال کے علاوہ ہندستان اور پاکستان کے بہت سے نامور اسکالر ان کے ذاتی کتب خانے سے استفادہ کرتے تھے۔سوسال سے زائد قدیم چھوٹے چھوٹے قصے اور کہانیوں کی کتابیں ان کے پاس تھیں اس کے علاوہ اودھ اور لکھنوی تہذیب و تاریخ پر علیحدہ سے ایک الماری بنا رکھی تھی ۔اسی طرح عورتوں کے حقوق پر اردو ،ہندی اور انگریزی میں جو کچھ لکھا گیا ہے اس کو انھوں نے جمع کررکھا تھا نیز مختلف مذاہب کی روشنی میں عورتوں کو جو حقوق عطا کیے گئے ہیں اس موضوع پربھی لکھی ہوئی کتابیں انھوں نے جمع کررکھی تھی ۔پرانی سی ڈی ،فلموں سے متعلق تحقیقی رسالے ،ڈاکٹ ٹکٹ اور پرانے طرز کے تصویری پوسٹ اورنادر و نایاب تصویروں کا خزانہ بھی ان کے پاس موجود ہے ۔لکھنوی تہذیب اور روایت پر جناب اسلم محمود صاحب کو کافی دسرس حاصل تھی ۔انھوں نے یہاں کی وضع داریوں اور تہذیبی رویوں پر کافی مواد جمع کررکھا تھا اور ان دنوں اودھ کی تاریخ و تہذیب اور ادبی اصناف کے حوالے سے انگریزی زبان میں ایک کتاب بھی لکھ رہے تھے جو آخری مراحل میں تھی ۔تقریبا پانچ سو صفحات وہ لکھ چکے تھے ۔ان کی ذاتی لائبریری میں مختلف طرح کے قرآنی نسخے بھی موجود تھے جس کو بہت اہتمام کے ساتھ دکھاتے تھے ۔کتابیں جمع کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے بارے میں معلومات بھی رکھتے تھے اورساتھ ہی کتابیں کس طرح حاصل کیں اس کی دلچسپ داستان بھی سناتے تھے ۔ ان کے انتقال پر مختلف علمی اور ادبی شخصیات نے گہرے رنج کا اظہار کیا ہے ۔ان میں ڈاکٹر عبدالرشید(دہلی )پروفیسر شہپر رسول (صدر شعبۂ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ )ڈاکٹر خان فاروق(کانپور )جناب پرویز ملک زادہ (لکھنو)،عامر فاروقی (گوالیار)کے نام شامل ہیں

Tagged as:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *