Azeem shair Ajmal Ajmali marhoom

Ajmal Ajmaliممتاز ترقی پسند شاعر ادیب نقاد ڈاکٹر اجمل اجملی کو ہم سے بچھڑے 23 برس بیت گئے ،،
برصغیر میں ترقی پسند تحریک نے بڑے بڑے شعراء ، ادیبوں اور نثر نگاروں کو جنم دیا مگر اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ صرف وہی شاعر، ادیب اور نقاد بڑے ثابت ہوئے جنہوں نے ترقی پسندتحریک کے منشور کے ساتھ اپنی تخلیقی صلاحیتوں سے سماجی زندگی میں تغیر و تبدیلی پیدا کی ہے ۔۔ ایک ایسی ہی شخصیت ڈاکٹر اجمل اجملی تھے ۔۔ جو کسی تعارف کے محتاج نہیں ۔۔ وہ ترقی پسند شاعر ہی نہیں ترقی پسند انسان بھی تھے ۔۔ ڈاکٹر صاحب یکم مارچ 1932 کوبرصغیر کی قدیم خانقاہ دائرہ حضرت شاہ محمد اجمل الہ آباد انڈیا میں پیدا ہوئے ، دائرہ شاہ اجمل کو برصغیر کی تایخ میں منفرد مقام حاصل یہ وہ ادبی مرکز ہے جہاں ریاضت حق شناسی اور انسانیت کی تعلیم کے ساتھ ساتھ زبان و ادب کی بھی خدمت کی جاتی رہی ہے ۔ تذکرہ نگاروں نے اس خانقاہ کا ذکر کئی کتابوں میں کیا ہے ۔ اردو کے ممتاز شاعر امام بخش ناسخ کی بھی اسی دائرے سے نسبت رہی ۔۔ امام بخش ناسخ کا یہ شعر اسی دائرہ کے حوالے سے ہے
؎
ہر پھر کے دائرے ہی میں رکھتا ہوں میں قدم
آئی کہاں سے گردش پرکار پاؤں میں
ڈاکٹر اجمل اجملی کا دولت خانہ دائرہ شاہ اجمل میں محل کے نام سے مشہور ہے ۔۔ آپ کے والد گرامی قطب الصمد حضرت شاہ سید احمد اجملی جنیدی رحمتہ اللہ علیہ اس خانقاہ کے سجادہ نشین تھے ۔ اسی لیے خانقاہی ماحول ڈاکٹر صاحب کو ورثے میں ملا ۔۔ عربی اور فارسی کی تعلیم گھر پر اور مدرسہ مصباح العلوم سےحاصل کی جبکہ میٹرک اور انٹر مجیدیہ اسلامیہ کالج الہ آباد سے کیا ، اعلیٰ تعلیم کے لئے الہ آباد یونیورسٹی کا رخ کیا ۔۔ ان دنوں بھارت میں ترقی پسند تحریک زوروں پر تھی اس کے اثرات یونیورسٹی کے ماحول پر بھی واضع نظر آرہے تھے ہر طرف ترقی پسندی اور کمیونزم کا شور تھا ۔ پروفیسر ضامن علی صدر شعبہ اردو، ڈاکٹر اعجاز حسین ، فراق گورکھپوری ، ترقی پسندوں کےسرخیل تھے ۔ اجمل اجملی مرحوم کی شخصیت پر بھی اس کے اثرات غالب آئے اور آپ اس تحریک سے جڑ گئے ۔ ڈاکٹراعجاز حسین کی شاگردی اور ممتاز ترقی پسند رہنما سجاد ظہیر عرف بنے بھائی کی صحبت نے ڈاکٹراجمل اجملی کے نظریات کو مزید پختہ کردیا ۔۔ آپ نےالہ آباد یونیورسٹی سے 1957 میں ایم اے اردوکیا اور1964 میں ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی جبکہ صحافت کا آغاز سیاست جدید کانپور اور عوامی دور سے کیا۔ دوران تعلیم طلبا سیاست میں پیش پیش رہے اور اس حوالے سے جیل کی صعوبتیں بھی برداشت کئیں ، تحقیقی کام کے لئے 1958 میں اسلامیہ کالج سری نگر کشمیر چلے گئے ۔۔ تاہم چند برس بعد دہلی آگئے اور سوویت سفارتخانے کے شعبہ اطلاعات سے منسلک ہوگئے ۔ رسالہ سوویت دیس کے نائب مدیرمقرر ہوئے اور یوں دہلی کے ہوکر رہ گئے ۔ ڈاکٹر اجمل اجملی کے الہ آباد میں قیام کے دوران ہم عصروں میں تیغ الہ آبادی جو پاکستان آنے کے بعد مصطفیٰ زیدی کہلائے ۔ اسرار ناروی ابن صفی کہلائے ۔۔ اسی طرح عباس حسینی ، مجاوررضوی، مشتاق انصاری،اسلام بیگ چنگیزی،غلام کبریا عابد اسرار و دیگر شامل تھے ۔۔ راقم الحروف کا ڈاکٹر اجمل اجملی سے روحانی و قلبی تعلق ہے وہ میری والدہ کے چھوٹے بھائی اور میرے سب سے بڑے ماموں تھے ، اگرچہ بھارت کا سفر کئے مجھے 25 سال سے زائد کا عرصہ بیت چکا ہے لیکن وہ ایام جو میں نے الہ آباد ،غازی پور اور دہلی میں گزارے آج بھی میری نظروں کے سامنے گردش کرتے ہیں ، بھارت کے سفر کی یادیں میرے حافظہ کا ایک ایسا سرمایہ ہے جن کی کشش اوردلربائی عمر کے ساتھ فروزاں تر ہوتی جارہی ،زندگی کے شاید سب سے قیمتی ایام جن کو جوانی کہتے ہیں اس کی کچھ یادیں انہی شہروں سے وابستہ ہیں یہی ۔۔ وہ عمر ہوتی ہے جو صرف انسان کی آرزوں ، امنگوں اور مستقبل سازی کے حوالے سے بڑی اہمیت رکھتی ہے ، میرے والد مرحوم کا آبائی شہرغازی پور ہے جو دریائے گنگا کے کنارے واقع ہے ۔۔ ان کا تعلق میاں پورہ کے حسنی حسینی سادات گھرانے سے ہے ،جبکہ والدہ کی جنم بھومی قدیم شہر الہ آباد ہے جہاں دریائے گنگا ، جمنا اور سرسوتی کا سنگم ہوتا ہے ۔۔ اسی وجہ سے ہندو مذہب میں اس شہر کو مقدس تصور کیا جاتا ہے۔ قیام پاکستان کے بعد میرے والد بھارت کو خیرباد کہہ کر کراچی چلے آئے ۔۔ ننھیال سے رابطہ صرف خط و کتابت کے ذریعے قائم تھا ۔۔ ڈاکٹر اجملی اجملی (ماموں صاحب ) سے میری پہلی ملاقات 1982میں ہوئی جب ابو اور امی کے ہمراہ ہم بہن بھائیوں کا انڈیا جانا ہوا تھا ۔ لاہور سے 3 روز کا سفر کرکے ہم لوگ دہلی پہنچے تھے ہمارا قیام ماموں صاحب کے گھر69 اوکھلا جامعہ نگر میں تھا ۔ ممانی صاحبہ اور بہنوں نے ہمارا انتہائی گرم جوشی سے استقبال کیا ۔ ماموں صاحب کو امی پیار میں بھیا کہتی تھیں اسی بنا ہم لوگوں کی زبان پر بھی بھیا چڑھا ہوا تھا ۔ ماموں صاحب سے پاکستان ،اور بھارت کی مجموعی صورت حال ، اردو ادب شاعری سمیت مختلف موضوعات پر گفتگو ہوا کرتی تھی ڈاکٹر صاحب کی گفتگو میرے علم کو جلا بخشتی تھی اور معلومات میں اضافہ کرتی تھی ، ماموں صاحب کے ہمراہ نئی دہلی میں کئی مشاعروں میں شرکت کا بھی موقع ملا ۔۔ ان مشاعروں میں ، مظفر حنفی ،ڈاکٹر پروفیسرقمر رئیس ، پروفیسر سید عقیل ،عذرا رضوی سمیت متعدد شاعر ، ادیب و نقاد سے ملاقات رہی جبکہ ترقی پسند شاعرغلام ربانی تاباں اور پروفیسر مشتاق انصاری اور شبنم نقوی ،افتخار اعظمی صاحب سے گھر پر ملاقات کا شرف حاصل ہوا اسی دوران ماموں صاحب کے ہمراہ دہلی سے باہر اترپردیش کے شہر مظفر نگر میں مشاعرہ میں بھی شرکت کے لئے جانا ہوا تھا ۔ یہ مشاعرہ قصبہ کتھولی کے شعراء کی یاد میں تھا ۔۔ وہان آپ نے اپنی غزل اور ںظم سے محفل کو گرما دیا کچھ غزل کےاشعار مجھے یاد رہ گئے تھے
؎
رنگیں ہے اپنے خون سے ہر منزل حیات
برباد ہوکے ہم نے سنواری ہے یہ حیات
فرعون وقت کوئی بھی ہو سرکشی کرو
یاران شہر میری طرح زندگی کرو
امرت نہیں نصیب تو زہرآب ہی سہی
کچھ تو علاج شدت تشنہ لبی کرو
دوران سفر گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ شاعرانہ ماحول مجھے ورثے میں ملاتھا جبکہ ممتاز شاعر نوح ناروی اور مولوی متین شمسی مرحوم جنھیں ہم لوگ شمسی ابا کہتے تھے ان سے شاعری میں اصلاح لی ،ماموں صاحب کے ہمراہ سوویت دیس کے دفتر 12 کھمبا روڈ نئی دہلی بھی جانا ہوا تھا وہاں میری ملاقات عذرا آنٹی سے ہوئی تھی ماموں صاحب کے دفتر سے ہم لوگ کناٹ پیلس کے نزدیک بنگالی کلب میں ایک تقریب میں شرکت کے لئے گئے تھے شاید وہ تقریب بنگالی شاعر نذرالسلام کی یاد میں رکھی گئی تھی۔ اسی طرح جامعہ ملیہ کے ہال میں ایک محفل غزل کا اہتمام کیا گیا تھا ، اس پروگرام میں ان کے ساتھ جانا ہوا تھا جہاں جگجیت سنگھ اور چترا نےعلامہ محمد اقبال کا کلام پیش کرکے بھرپور داد پائی تھی ۔۔ ماموں صاحب سے ہونے والی گفتگو سے میں نے اندازہ لگایا کہ وہ مضبوط قوت ارادی والے شخص تھے مگر ساتھ ہی ان میں حساسیت بھی پوشیدہ تھی ، اپنے ارد گرد کے ماحول میں جبرو استحصال،طبقاتی ظلم ۔ رنگ و نسل کی تفریق ،بھوک افلاس پر دل گرفتہ دکھائی دیتے تھے ۔۔ وہ فرسودہ نظام کے خلاف جدوجہد کرکے تبدیلی لانے کے قائل تھے ۔ انھوں نے انجمن ترقی پسند مصنفین ہندوستان کے جنرل سیکرٹری کی حیثیت سے ادبی سرگرمیوں میں بھر پور حصہ لیا ۔ مختلف کانفرنس ،سمینار و مشاعروں میں شریک ہوئے جبکہ کئی غیر ملکی دورے بھی کئے ۔۔ بھارت میں 4 ماہ قیام کے بعد ہم لوگ واپس کراچی آگئے۔ 1988 کے اواخر میں میرے دوست آفتاب علی جو ان دنوں امریکا میں مقیم ہیں نے اچانک بھارت جانے اور اجمیر شریف کی درگاہ پر حاضری دینے کاارادہ ظاہر کیا بس پھر کیا تھا، میں نے رخت سفر باندھ لیا ۔ پھر بھارت پہنچ گئے ماموں صاحب اور گھر والوں کے ساتھ چند یوم گزارنے کے بعد نانی صاحبہ کی قدم بوسی کے لئے الہ آباد روانہ ہوگیا وہاں ایک ماہ قیام کے بعد اپنے دوست کے ہمراہ کانپور، گوالیار ،لکھنو،غازی پور گھومنے چلا گیا ۔ الہ آباد واپس پہنچا تو ماموں صاحب کی علالت کا علم ہوا ۔ نانا میاں کے انتقال کے بعد ۔۔ ماموں صاحب پرفالج کا حملہ ہوا تھا ۔۔ساتھ ہی دل کا مرض بھی لاحق تھا ۔ بیماری کا سن کہ میں دوسرے روز دہلی پہنچا تو ممانی صاحبہ نے بتایا کہ طبعیت زیادہ خراب ہونے پرانھیں ہولی فیملی اسپتال نئی دہلی میں داخل کردیا گیا ہے ، شام کو ممانی صاحبہ کے ہمراہ اسپتال پہنچا وہاں چھوٹی بہن زویا اجملی تیماری داری کیلئے موجود تھیں ۔۔ ماموں صاحب دواؤں کے اثر سے سوئے ہوئے تھے، ممانی صاحبہ کو صبح آفس جانا ہوتا تھا واپسی میں ماموں صاحب کے پاس اور پھر گھر کی دیکھ بھال اسی طرح میری بہنوں سیما ،لونا ، زویا،مالو کو صبح اسکول اور کالج جانا ہوتا تھا اور شام کو وہ اسپتال میں ہوتیں ۔۔ کئی راتیں بھیا کے ساتھ اسپتال میں گزاری اس دوران مجھے اپنوں اور بیگانوں کے رویہ کا بھی سامنا رہا ، ماموں صاحب کی طبعیت چونکہ بہتر ہوگئی تھی اور ساتھ ہی میرے ویزے کی مدت اختتام پذیر ہوگئی مزید توسیع نہیں ملی تھی ، بادل نخواستہ بھیا( ماموں صاحب) کو اسی حال میں چھوڑ کر واپس آنا پڑا ۔۔ پاکستان آکر بذریعہ فون ان کی خیریت کے بارے میں آگاہی لیتے رہے ۔۔ 1989 میں ممانی صاحبہ کے اچانک انتقال کی خبر ملی ۔ جو نہ صرف بھیا کے لیےایک بڑا صدمہ تھا ، بلکہ ہمارے لیے تکلیف دہ تھا ۔۔ ماموں صاحب کی تخلیقی صلاحیتوں میں ممانی صاحبہ مرحومہ کا اہم کردار تھا ، ممانی کی موت نے پہاڑ جیسے مضبوط ڈاکٹر اجمل اجملی کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا ۔۔ چار برس بعد 6 اگست 1993 کو ۔ماموں صاحب بھی اپنی چار بیٹیوں اور لاکھوں چاہنے والوں کو سوگوار چھوڑ کر دارفانی سے کوچ کرگئے

Tagged as:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *