Baqi Azmi Ghazal


موجِ غزل کے ۱۴ ویں آن لائن فی البدیہہ مشاعرے کے لئے میری طبع آزمائی احمد علی برقی اعظمی
سیاست میں ریاکاری جو آگے تھی سو اب بھی ہے اداکاری و عیاری جو آگے تھی سو اب بھی ہے

ہے اُس کی بدگمانی ایک ذہنی کرب کا باعث مسلسل اک دل آزاری جو آگے تھی سو اب بھی ہے

نہیں پُرسانِ حال ایسے میں کوئی غم کے ماروں کا غریبی اور لاچاری جو آگے تھی سو اب بھی ہے

نکلنا گھر سے باہر ہوگیا دشوار لوگوں کا ہر اک گھر میں عزاداری جو آگے تھی سو اب بھی ہے

ہیں اپنی دسترس سے دور آٹا ، دال اور سبزی بہت مشکل خریداری جوآگے تھی سو اب بھی ہے

نظر کے سامنے ہیں ہر طرف کنکریٹ کے جنگل شجر کاری میں دشواری جو آگے تھی سو اب بھی ہے

بغیر اس کے کوئی بھی کام ہونا غیر ممکن ہے وہی رشوت کی بیماری جو آگے تھی سو اب بھی

سکونِ قلب عنقا ہوگیا ہے دن میں بھی برقی ’’ وہی راتوں کی بیداری جو آگے تھی سو اب بھی ہے ‘‘

3

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *