Paigham Afaqi passes away, Barqi Azmi pays tribute

Paigham Afaqi passes away, Bari Azmi pays tribute
ج صبح پانچ بجے جدید حسیت کے اردو کے فکشن نگار،اور شاعر پیغام آفاقی داغ مفارقت دے کر اس دینا سے کوچ کرگئے ۔پیغام آفا قی صاحب ۔ پروردگار آپ کے درجات آخرت میں بھی بلند فرمائے ۔انا للہ وانا الیہ راجعون….اوران کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین پیغام آفاقی صاحب کوکل وینٹی لیٹر سمیت ان کے آبائی شہر سیوان لے جایا گیا. ان کے دماغ نے کا م کرنا بند کردیا ہے. اور ان کی دماغ سن ہوچکا ہے. پیغام آفاقی قلمی نام ، اصل نام اختر علی فاروقی ہے – ان کی پیدائش سنہ 1956 میں موضع چانپ، ضلع سیوان، بہار (انڈیا) میں ہوئی – ابتدائی تعلیم سیوان میں اور اعلی تعلیم علیگڑھ مسلم یونیورسٹی سے ہوئی جہاں سے انہوں نے انگریزی ادب میں بی-اے- آنرز اور تاریخ میں ایم- اے – کیا – وہ مشہور زمانہ ادبا قاضی عبدالستار و شہریار اور مورخ عرفان حبیب کے شاگرد رہے ہیں ان سب کے بہت قریب بھی رھے- یونیورسٹی کے زمانے میں وہ علی گڑھ مسلم یونیورستی کے لٹریری سوسائٹی کے سکریٹری رہے – انہوں نے یونیورسٹی کے زمانے میں دو ناولٹ اور چند افسانے اور کچھ نظمیں لکھیں جنہیں زبردست پذیراائی ملی اور ان کے کچھ افسانے اور نظمیں موقر رسالوں جیسے ‘آجکل’ ، ‘ آہنگ’ اور ‘تحریک’ وغیرہ میں شائع ہوئیں – ان کی یہ ابتدائی تخلیقات اس بات کی غمازی کرتی ہیں کہ انہوں نے ابتدا سے ہی ترقی پسند تحریک یا جدیدیت سے متاثر ہوئے بغیر اپنے لئے نئی راہ نکالی اور ان کی یہ روش آگے چل کر وہاں کے آزاد خیال نوجوانوں کے ایک کارواں میں تبدیل ہوگئی – طالب علمی ے دور کے بعد وہ کل ہند مقابلے کا امتحان میں کامیاب ہوکر پولس سروس آف انڈیا میں شمولیت اختیار کی۔ اور اس کے بعد وہ بیشتر دہلی میں مقیم رہے ہیں – شاید وہ آپنی وفات سے قبل پولیس کمشنر تھےاردو اور ہندوستان کے ادبی حلقوں میں ان کی شہرہ آفاق حیثیت ان کے ناول ‘مکان’ کی اشاعت سے قائم ہوئی جس کے سر اردو ناول کی تجدید نو کا سہرا جاتا ہے – اس ناول کا مرکزی کردار ایک خاتون ہے ۔یہ ناول نہ صرف اردو میں ایک بڑی اہمیت کا حامل سمجھا جاتا ہے بلکہ سنہ 2012 میں اس کو امریکی حکومت کی مشہور ادبی تنظیم National Endowment for Arts نے دنیا کے چند عظیم ناولوں کے طور پر منتخب کرکے امریکی عوام کے مطالعے کا حصہ بنانے کے لئے ترجمہ کا فیلو شپ دیا جو امریکی ادیب و شاعر Matt Reeck نے کیا ہے اور اس کے اقتباس مشہور امریک رسالہ TWO LINES نے بطور خاص شائع کیا – اس کے علاوہ یہ ناول فیمنزم کے موضوع پر دنیا کے چند اہم کتابوں میں شمار کی جاتی ہے – پیغام آفاقی کا دوسرا ناول ‘پلیتہ’ سنہ 2011 میں شائع ہو ا جس کو مکان کی طرح ہی پذیرائی ملی ہے اور اسے بھی موضوع اور تکنیک دونوں اعتبار سے منفرد تسلیم کیا گیا ہے -پیغام آفاقی کا ناول مکان عصرِ حاضر کا بالکل صاف و شفاف آئینہ ہے جس میں ہر عکس نہایت واضح اور اپنی اصل ہئیت میں نظر آتا ہے۔ ایک ایسا آئینہ جس سے نکلنے والی عکسی شعاعیں کرداروں کے نفس و ذہن اتر کر ظاہر و باطن کی تصویر کشی کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں۔ اس لئے بجا طور یہ حقیقت نگاری کا ایک بہترین نمونہ ہے۔ ہم اپنے معاشرے میں آئے دن جو کچھ دیکھتے ہیں اور اخبارات میں جو کچھ پڑھتے ہیں وہی سب اس کتاب میں نہایت دلچسپ انداز میں بیان کر دیا گیا ہے۔ اس موقع پر ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخراس ناول میں اور ایک اخبار میں کیا فرق ہے ؟ ایک نامہ نگارو صحافی سے ناول نگار پیغام آفاقی کیوں کر مختلف و ممیز ہے ؟ ان سوالات سے بھی اہم تر سوال یہ ہے کہ اگر آج کا قاری ان حالات و واقعات کا ہر روز مشاہدہ اور مطالعہ کر ہی لیتا ہے تو وہ آخر اس ناول کو کیوں پڑھے ؟ دلیپ سنگھ نے کہا تھا” انھوں نے تو ناول کو ایک انتہائی خوبصورت کہانی کے روپ میں پڑھا لیکن نقادوں کی یکایک گہری چھان بین سے ایسا لگتا ہے کہ ’’مکان ‘‘ میں انکم ٹیکس کے افسر گھس آئے ہیں جنھوں نے مکان بالکل اُتھل پتھل کرکے رکھ دیا ہے اور اس کی بے پناہ مقبولیت کے اسرار کو ایک ایک دیوار کو توڑ کر ڈھونڈنکالنا چاہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس ناول کی خوبیوں کا راز تو صرف ایک باذوق قاری کی حیثیت سے پڑھنے پر ہی لگ سکتا ہے کیوں کہ یہ ناول نقادوں کے لیے نہیں ذہین قاری کے لیے لکھا گیا ہے۔ پیخام آفاقی نے ” مکان” کے بارے مہں کہا تھا ” مکان۔ اہم ترین ناول۔ اس نے میری زندگی کے تاریک و مشکل ترین موڑ پر اعتماد کی کرن دکھائ و نفسیات کی پر پیچ راہوں کو روشن و آسان کر دیا۔”اس کے علاوہ ان کے افسانوں کا ایک مجموعہ ‘مافیا کے نام سے چھپ چکا ہے اور ان کا شعری مجموعہ ‘ درندہ’ کے نام سے شائع ہوچکا ہے ۔ ان سے جب بھی ملاقات ھوتی تھی تو وہ زیادہ تر اردو فکشن کی ماہیت، ابلاغ اور دیگر زبانوں کے تبدیل ھوتے ھوئی رجحانات کر بات کرتے تھے۔ اس سلسلے میں ان کی آگاہی بہت اچھی تھی۔ مجھے سے امریکی ناول نگاروں مالخصوص امریکی نوبل انعام یافتہ ناول نگار سال بیلو اور جوزف ہیلر سے میری ملاقاتوں اور ان کے افسسانوی رویوں اور جمالیات پر حوب باتیں کیا کرتے تھے۔ پیغام آفاقی کی گفتگو اور انداز نگارش میں دلیری اور مہم جوئی بہت ھوتی تھی، جس میں مزاحمت بھی ھوتی تھی اور احتجاج بھی پوشیدہ ھوتا تھا۔۔ ……احمد سہیل

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *