Muslim Saleem ghazal ka badshah: Kausar Siddiqui

مسلم سلیم ۔ غزل کا بادشاہ

کوثر صدیقی

  مسلم سلےم کو علمی و ادبی گھرانے کے اعتبار سے نجیب الطرفین کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ ان کے پر۔نانااپنے دور کے مشہور دانشور سید عبدالباقی ان تاریخی ہستیوں میں ہےں جو محمڈن اینگلو اورئینٹل کالج علی گڑھ کے ابتدائی پانچ طلبا میں شامل تھے۔آپ کے والد بزرگوار ڈاکٹر سلیم واحد سلیم بھی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طبیہ کالج سے فارغ التحصیل تھے جان کی تعلیم و تربیت اپنے پھوپھا ڈاکٹر عطاءاللہ بٹ کی زیرِ نگرانی ہوئی تھی جو اس دور میں جرمنی سے اےم ڈی کرنے کے بعد مسلم یونیورسٹی کے طبیہ کالج کے موسّس  پرنسپل اور امراضِ چشم کے شہرت ےافتہ معالج تھے۔

Muslim Saleem ghazal ka badshah

  مسلم سلیم کی پیدائش اگرچہ اپنے ننھیال قصبہ شاہ آباد (ضلع ہردوئی اتر پردیش جو مشہور فلم اسٹار عامر خاں کی بھی جائے پیدائش ہے) میں یکم نومبر1950 کوہوئی لیکن درجہ اول سے لے کر بی۔اے۔ تک مسلم یونیورسٹی اور اس کے اسکولوں میں تعلیم حاصل کی۔ بعد میںاےم۔اے۔ عربی الہٰ آباد یونیورسٹی سے کیا۔ دورانِ تعلیم وہ صرف کتابوں میں گھر کر نہےں رہے بلکہ کتابوں کی دنےا سے باہر نکل کر تمام extracurricular activities مع (A-Class ) اے۔کلاس کرکٹ سے بھی وابستہ رہے۔

 جس شخص کی تعلیمی اساس مسلم یونیورسٹی اورالہٰ آباد یونیورسٹی جیسی بین الاقوامی شہرت یافتہ یونیورسٹیوں میں رکھی گئی ہو اس کے ذہن و فکر کی بالیدگی کا اندازہ آسانی سے لگایا جا سکتا ہے۔ مذکورہ تعلیمی اور تربیتی پس منظر میں مسلم سلیم کو پروفیسر ہونا چاہیے تھا لیکن قدرت کا کھیل بھی عجیب ہے۔ زندگی کے سیلاب نے ساحلِ بھوپال پر لا کر پھینک دیا اور صحافت نے ان کا ہاتھ تھام کر معاشی شاہراہ پر گامزن کردیا۔ میں انھیں قریب تیس ۔پینتیس سال سے جانتا ہوں۔ذاتی شرافت، نجابت کے علاوہ ان کی اعلیٰ علمی لیاقت سے بھی واقف ہوں۔ وہ کسی نہ کسی سرکاری محکمے میں اعلیٰ عہدہ حاصل کرسکتے تھے مگر ایسا لگتا ہے کہ مالی منفعت اورسرکاری غلامی کا جوا گلے میں دالنے کے بجائے انھوں نے صحافت(جو جمہوریت کا چوتھا ستون ہے) کے آزاد پیشے کہ ترجیح دی۔

  صحافت کے میدان میں بھی اپنے جوہر دکھائے اور اےک کثیر لسانی صحافی ( multi-lingual journalist) کی حیثیت سے اپنی شناخت بنائی۔ بھاسکر گروپ آف نیوزپیپرس بھوپال کے اردو روزنامہ آفتاب جدید سے 1979 میں کیریر کا آغاز کر کے اسی گروپ کے انگریزی اخبار نیشنل میل سے وابسطہ ہوئے۔ پھر اسی گروپ کے ہندی کوآرڈینیٹر بنے۔ 2003 میں وہ ا نگریزی اخبار نیوز اےکسپریس میں چیف سب ایڈیٹر کے عہدے پر فائز ہوئے۔آپ انگریزی روزنامہ ہندوستان ٹائمز سے بھی وابستہ رہے ہےں۔ صحافت سے ہمہ وقت وابستگی اور مصروفیات کے با وجود شاعری کا دامن جو انھوں نے لڑکپن میں تھام لیا تھا، مضبوطی سے تھامے رہے۔ آج بھی تھامے ہوئے ہیں۔ اتنا ہی نہیں ، انھوں نے صحافت اور ادب کو اپنے بچوں کی سرشت میں بھی بھر دیا ہے۔ ان کے بیٹے عطا ءاللہ فیضان خود اےک نیم ادبی نیم سیاسی ماہنامہ ©”ہم سخن“ بھوپال سے شائع کر رہے ہیں۔ آج کے دور میں جب کہ بڑے بڑے اردو شعراءاور دانشوروں کی اولادیں مادری زبان اردو سے نا بلد ہیں، اپنے بچوں کو اردو علم و ادب سے وابستہ کرنے کی ذمہ داری جس طرح مسلم سلےم نے نبھائی ہے اس کے لئے وہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔

  مسلم سلیم ”زمانہ با تو نسازد تو بزمانہ سازد “ کے مقولے کے تحت انٹرنیٹ کی دنیا سے بھی نہ صرف وابستہ ہیں بلکہ پوری سائبر دنیا ان کی انگلیوں کے زیرِ نگیں ہے۔ انھوں نے اس میدان بھی وہ کارنامہ انجام دیا ہے جو ابھی تک بھوپال میں کوئی نہیں کر پایا ہے۔ انھوں نے(www.khojkhabarnews.com) سمیت ۶۱ ویب سائٹوں پر اردو شعرا اور ادباءکی ویب ڈائریکٹریز ترتیب دی ہیں جن کی خوبی ڈاکٹر شہزاد رضوی، سابق پروفیسر ، واشنگٹن (جاں نثار اختر کے بھتیجے) نے اس طرح بیان کی ہے:۔

  ” اس (ویب سائٹ) مےں مسلم سلیم نے صرف اپنی شاعری اور شخصےت کے بارے مےں ہی نہیں لکھا بلکہ ہندوپاک کے ساتھ اردو دنےا کے ہزار ہا شعراءو ادبا کی مختلف ڈائرےکٹریز ترتیب دے کر تعارف و تصاویر پوسٹ کی ہےں۔ مےرے نزدےک اردو دنےا مےں اتنا بڑا کام پہلے کبھی نہیں ہوا۔“

  یہاں میں یہ بھی بتا دوں کہ بھوپال کے اہلِ قلم حضرات کی شخصیت، فن اور ادبی خدمات بھی انٹرنیٹ پر پیش کرکے انھیں عالمی سطح پر متعارف کرانے کی اولیت بھی مسلم سلیم کو حاصل ہے۔

   مسلم سلیم آج کل کے عام شعراءکی روش سے تھوڑا ہٹ کر اپنے اشہبِ قلم کی جولانیاں دکھاتے ہیں۔ کچھ نثری تخلیقات بھی ہیں۔ وہ نعت ، نظمیں، قطعات وغیرہ بھی کہتے ہےں مگر وہ مملکتِ غزل کے بادشاہ ہیں۔ ایسے بادشاہ جو اپنی سرحدوں کی حفاظت پر ہی نظر نہیں رکھتے بلکہ اس کی توسیع میں بھی یقین رکھتے ہیں۔ ان کی غزل بلا مبالغہ غزل میں اضافہ ہے۔ ان کا طائر ِ فکر جب پرواز کرتا ہے تو اس کی نظرمیں دور کے منظر جو ایسے خےالات کو جنم دیتے ہیں جن میں قاری کو چونکا دینے والا کچھ نےا پن ہوتا ہے۔ میں اس شاعر کو بڑا شاعر سمجھتا ہوں جسے پڑھ کر دوسرے شاعر کے دماغ میں یہ خےال سر اٹھائے کہ کاش میں بھی ایسی شاعری کر سکتا۔ مسلم سلیم کی شاعری (غزل) اس تعریف پر کھری اترتی ہے۔ شہرت کے گراف سے کسی شاعر کے قدوقامت کو نہیں ناپا جا سکتا۔

  ”مسلم سلیم لیلائے غزل کے اسیر کب ہوئے مجھے معلوم نہیں لیکن ۱۲ برس کی عمر میں کہی گئی مندرجہ ذیل غزل (جسے انھوں نے پہلی تخلیق کہا ہے) کے انداز، اظہار اور پختگی دیکھ کر لگتا ہے کہ کم عمری سے ہی مشقِ سخن کا سلسلہ جاری رہا ہوگا۔ ملاحظہ ہو ©۔۔

 ۱۔ ہر خواہش کب کس کی پوری ہوتی ہے

 ہوتی ہے پر تھوڑی تھوڑی ہوتی ہے

۲۔ان کے میل کو ان کے گھر جاکر دےکھو

 باہر جن کی چادر اجلی ہوتی ہے

۳۔مےں بازار سے کافی پردے لاےا ہوں

اب دےکھوں کےسے رسوائی ہوتی ہے

   پہلا شعر بظاہر بہت سادہ مگر معنویت سے پُر ہے۔ اس میں زندگی کا بہت بڑا فلسفہ ہے۔ انسانی خواہشات کے بے شمار پہلو اور ان کا دائرہ وسیع ہے۔ ایسی صورت میں ان کی تکمیل  ممکن نہیں ہے۔

   دوسرے شعر میں آج کے اخلاقی زوال کے دور میں عام لوگوں کے اور بالخصوص ہمارے سماجی ٹھیکیداروں کی زندگی کے دوہرے معیار کی ترجمانی اس سے بہتر ایک نوجوان ، نو آموز شاعر سے نہیں کی جا سکتی۔

   اچھی شاعری کے لئے دیگر فنی لوازم کے ساتھ اصطلاحات بھی ضروری ہیں۔ تیسرے شعر میں فن کی اصطلاح کا مفہوم بہت وسیع اور بلیغ ہے۔ کسی نہ کسی صورت میں پردہ اور پردہ پوشی کی ضرورت انسان کی جنم سے مرنے تک ہوتی ہے۔ ۔۔۔ڈھانپا کفن نے داغِ عیوبِ برہنگی۔۔۔

   ان اشعار کی تشریح کے پیچھے میرا مقصد یہ ہے کہ ” پوت کے پاو ¿ں پالنے میں نظر آجاتے ہیں ©“ کے مصداق مسلم سلیم کے جب گھٹنے گھٹنے چلنے کے دن تھے، وہ دوڑ لگاتے ہوئے نظر آنے لگے تھے۔

   مسلم سلیم فطری شاعر ہیں اور جہاں تک میرا علم ہے تلمیذالرحمٰن ہےں۔ موزوں طبعی اور شعری ذوق انھیں فطرت سے عطا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے ابتدائی کلام میں بھی اردان کی کمی بیشی ےا اوزان کا سقوط نظر نہیں آتا۔ ان کی شاعری فطری طور پر نزول کی شاعری ہے جسے آمد کی شاعری کہا جا تا ہے۔ اس کا اعتراف انھوں نے خود اس طرح کیا ہے۔ ۔۔

  ” ”نہےں کہتا تو مہےنوں برسوں نہےں کہتا اور جب آمد کا ہجوم ہوتا ہے تو گھر ہو ےا دفتر، سفر ہو ےا حضر، اشعار کا ورود ہوتا ہے۔۔۔۔ کبھی کبھی برسوں کے بعد دس پندرہ دن آتے ہےں جب لگتا ہے کہ ذہن مےں آمد کا کوئی بٹن دب گےا ہو۔ ان دنوں مجھ پر وجد کی سی کےفےت طاری رہتی ہے اور مےں جھوم جھوم کر ان نو آوردگان کا استقبال کرتا ہوں۔ جب مجھ جےسے کم علم پر ےہ اشعار گہرا تائثر چھوڑتے ہےں، تو مےں مطمئن ہو جاتا ہوں کہ اہل ذوق حضرات انہےں ےقےنا پسند کرےں گے“۔

    ان کا پہلا مجموعہ ¿ِ کلام 2010۱ میں مدھیہ پردیش اردو اکادمی نے شائع کیا تھاجو پذیرائی کے نقطہ ¿ِ نظر سے کامیاب رہا۔ بر صغیر کی سطح سے بین الاقوامی سطح تک ادبی دنیا کی نامور ہستیوں نے مسلم سلیم کی شعری صلاحیت کا کھلے دل سے اعتراف کےا جن میں ڈاکٹر شہزاد رضوی، واشنگٹن، راشد خلیل، لاہور، ڈاکٹر جعفر عسکری، لکھنﺅ، ڈاکٹر نورالحسنین، اورنگ آباد (مہاراشٹرا)، مہدی جعفر، الہٰ آباد وغیرہ شامل ہیں۔

   اس سے پہلے کہ زیرِ نظر مجموعہ پر اظہارِ خےال کروں، مسلم سلیم کے پہلے شعری مجموعے ”آمد آمد“ سے چند اشعار بطورِ نمونہ پیش کرتا ہوں:۔

تقدےر کی مجھ سے یونہی تکرار چلے گے۔۔۔ مےں سائے مےں بےٹھوں گا تو دےوار چلے گی

آج صندوق سے دےرےنہ زمانے نکلے۔۔۔ڈائری کھولی تو ےادوں کے خزانے نکلے

پانی ہےں، بلبلہ ہےں، برستی گھٹا ہےں ہم

درےا ہےں، آب جو ہےں، سمندر ہےں، کےا ہےں ہم

وہ دےکھنے مےں اب بھی تناور درخت ہے

حالانکہ وقت کھود چکا ہے جڑےں تمام

جمع کرتے رہو شیرازہ ¿ِ اسبابِ حےات

اس کی تقدیر بکھرنا ہے بکھر جائے گا

ےہ تھام لےتا ہے امکانِ فتحِ نو کے قدم

شکست سے بھی برا ہے شکست کا احساس

اک ذرا جب ہم اٹھا کر سر چلے

ہرطرف سے دےر تک پتھر چلے

   مسلم سلیم سے میرے قریبی تعلقات ہیں۔ میں حقیقت بےانی بھی کروں تو مجھ پر عصبیت کا الزام عائد ہو سکتا ہے۔ اس لئے میں اپنی جانب سے لکھنے کے بجائے دیگر مشاہیر کے تاثرات کا اقتباس پیش کرنا مناسب سمجھتا ہوں:۔

   ڈاکٹر شہزاد رضوی، واشنگٹن ۔۔۔”اگر بین الاقوامی اردو حلقہ مسلم سلیم کی شاعری کا حظ اٹھانے سے محروم رہ گیا تو یہ از حد شرمناک بات ہوگی۔ مسلم سلیم شاعری برائے شاعری کے قائل نہیں۔ وہ تبھی قلم اٹھاتے ہیں جب ان کے سینے میں موجزن جذبات ان کو تحریک دیتے ہیں“۔

   مہدی جعفر، الہٰ آباد۔۔۔”اچھا شعر ہی شاعر کا تعارف ہوتا ہے۔ آجکل جس برق رفتاری سے شاعری کے مجموعے شائع ہو رہے ہےں، ان مےں اچھا مجموعہ ےا اچھا شعر تلاش کرناجوئے شےر لانے کے مترادف ہے۔سائنسی ترقی اور مشینی زندگی نے انسانی جذبات و احساسات اور روےوں کو اےسا مخبوط کر رکھا ہے کہ آج کا مادےت پرست انسان اعلیٰ روحانی، اخلاقی، سماجی اور تہذیبی روےوں کے عملی افادےت سے کوسوں دور چلا جا رہا ہے۔ اےسے ماحول مےں مسلم سلیم جےسے جدید لب و لہجے کے شاعر کا مجموعہ © © © ©”آمد آمد“ خوشگوار ہوا کا جھونکا محسوس ہوتا ہے © ©۔“

    راشد خلیل، لاہور۔۔ ©”

  مسلم سلےم اپنے عہد کے بڑے نباض ہےں اور عمےق سماجی اور عصری شعور ان کے مزاج، گفتگو اور تحرےروں مےں جھلکتا ہے۔ تخلےقی عمل مےں سماجی اور معاشرتی روےوں کا مضبوط تارےخی اور ادبی پس منظر اشعار کی صورت مےں قاری کے لئے تفہےم کے نئے در وا کرتا ہوا دکھائی دےتا ہے۔ مسلم سلےم نے اپنے صحافےانہ تجربے اور مشاہدے کو شعر بنانے شعری حسن کا خاص خےال رکھا ہے۔ بعض اشعار تو زندگی کا مکمل خاکہ بنا دےتے ہےں اور قاری کے سامنے اےک تصوےر پھر جاتی ہے۔“

   ڈاکٹر جعفر عسکری، لکھنﺅ۔۔۔” کلام مےں عصری حسےت بھی ہے، تخےل کی بلاغت بھی ہے، فکری بلوغت بھی ہے نےز فنّی و تخلےقی ہنر مندی بھی ہے اور احساس اور جذبہ بھی اپنی جلوہ سامانےاں بکھےرتے نظر آرہے ہےں۔۔۔۔۔دراصل وہ خےالی دنےا کے شاعر نہیں ہےں بلکہ بےداری اور باخبری کے شاعر ہےں۔“

    جعفر عسکری صاحب نے سچ کہا ہے کہ مسلم سلیم مشاعروں کے شاعر نہیں ہیں۔ لیکن میرے نزدیک یہی ان کی کمزوری ہے۔آج کو دور میںبھی جب کہ مشاعرون پر پیشہ ور شعراءنے اجارہ داری قائم کر رکھی ہے، لوث ، اچھے اور سچے شاعروں کی بھی قدر ہوتی ہے۔ مسلم سلیم کی غزل ان کے دل کی گہرائیوں سے نکل کر سامع کے دل میں براہِ راست اتر جانے والی چیز ہے۔ ان کے خےالات ہر شحص کے ہمہ قسمی جذبات کی ترجمانی کرتے ہیں۔ الفاظ کے ساتھ ردیف اور قوافی اور بندش اتنی چست ہوتی ہے کہ شعر نہ صرف ظاہری طور پر حسین ہو جاتا ہے بلکہ گہری معنویت کا حامل بھی بن جاتا ہے۔

    ان کی غزل جدید ہے۔ جدید اس معنی میں کہ بیسویں صدی کا کلام جو” آمد آمد“ میں شامل ہے وہ اکیسویں صدی میں بھی جدید ہے اور اکیسویں صدی کا کلام جو زیرِ نظر مجموعے میں شامل ہے وہ بائیسویں صد

صدی اور اس کے بعد بھی اپنے عہد کی ترجمانی کرے گا۔ ان کی نظموں ےا غزلوں میںعہدِ حاضر کے حوالے سے جو خےال بندی ہے وہ آنے والے وقتوں میں تاریخ بن سکتی ہے۔ لیکن غزل کے رنگ و آہنگ میں ایسی پائداری ہے جس کا رنگ امتدادِ زمانہ ہلکا نہیں کر سکے گا۔

   مسلم سلیم نے کہا ہے۔۔

نقاد یہ کہتا کہ کر مےری غلامی

شاعر تجھے مےں اوجِ ثرےا پہ بٹھا دوں

  قدرِ گوہر شاہ داند یا بداند جوہری۔ نقاد حضرات انھیں شعراءسے غلامی کے لئے کہتے ہےں جن کا مال کھوٹا ہوتا ہے۔ گوہر اگر اصل جوہر ہے تو ہر دور میں ان کے قدرداں بھی ہوتے ہیں اور شناخت کرنے والے بھی۔ مسلم سلیم کے ۴۲ قیراط خالص ہیں۔ انھیں کسوٹی کی ضرورت نہیں وہ اپنی quality خود اپنے منھ سے بولتے ہیں۔ یہ بات اور ہے کہ۔۔۔

مسلم مجھے لیکن مری عزلت ہے گوارا

گھر بیٹھ کے خاموشی سے میں فن کا جِلا دوں

   مسلم سلیم کا زیرِ نظر مجموعہ اپنے عہد کے کرب کا بھی ترجمان ہے۔ اس میںجہاں مغربےت ، بازاریت اور نسوانی عرےانیت کے خلاف آواز بلند کی ہے وہیں اسلامی دنےا پر مغربی ممالک کے مظالم، دورِ حاضر کی خوفناکیاں، سیاہ دولت کی زیاں کاریاں، انسانیت کا زوال وغیرہ کے درد کا بھی اظہار ہے۔ چند اشعار بطور نمونہ پیش کر کے میں اپنی تحریر ختم کرتا ہوں۔۔۔

 مغربی بازارےت کی دےن یہ ہےجان ہے

حسنِ نسواں اب فقط تفرےح کا سامان ہے

جہاں پہ راج ہے چنگےزی بربرےّت کا

کسی کے دل مےں بھی بدھّا نظر نہےں آتا

نہ جانے کس جگہ مل جائے دہشت۔۔دعائےں پڑھ کے سب گھر سے نکلنا

لوگ پھرتے ہےں ےہاں بھےس بدل کہ مسلم

شکلِ دروےش مےں اب کون نجانے نکلے

لہو لہان، درےدہ لباس ہےں لےکن

ہمارے چہرے پہ اب بھی چمک رہی ہے وفا

دولت سے داغِ جرم ہر اک صاف ہو گےا

لو آج وہ بھی شاملِ اشراف ہو گےا

کوثر صدیقی

ایڈیٹر، سہہ ماہی کاروانِ ادب

 79-A گنّوری، بھوپال 462001

mob: 09926404171

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *