نگینہ کے نگینے۔۔اردو شاعری کی ۵ تاریخ ساز بہنیں

نگینہ کے نگینے۔۔اردو شاعری کی ۵ تاریخ ساز بہنیں
مسلم سلیم
چیف ایڈیٹر، ہم سخن ٹائمس
اور کھوج خبر نیوز ڈاٹ کام
email: saleemmuslim@gmail.com
5 sistersاردو شاعری میں سب سے پہلے دو بہنوں نے دھوم مچائی تھی۔ ساجدہ زیدی اور زاہدہ زیدی سے علی گڑھ مسلم یو نی ورسٹی میں دورانِ تعلیم بارہا ملاقات ہوتی رہتی تھی۔ دونوں اردو اور انگریزی میں طاق تھیں۔ ایک اکانامکس اور دوسری انگلش شعبہ میں تھیں ۔یہ ۰۷۹۱ سے ۴۷۹۱ تک کی بات ہے۔پھر میں وہاں سے چلا آیا ۔لیکن ایک ہی زمانہ میں دو سگی بہنوں کی شاعری کا یہ ریکارڈ جاری رہا۔
لیکن ان تقریباً ۰۵ برسوں میں دوسری ۵ سگی بہنوں نے یہ کارنامہ کر دکھایا اور نیا ریکارڈ قائم کردیا ہے جسے توڑ پانا ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ساجدہ زیدی اور زاہدہ زیدی بنیادی طور پر نظم کی شاعرات تھیں اور پیشہ سے پروفیسر۔ لیکن ان ۵ بہنوں میں کسی کو نظم ،کسی کو غزل اور کسی کو مسلامہ پر عبور حاصل ہے۔ ان میں سے کوئی میڈیکل ڈاکٹر ہیں، کوئی بیروکریٹ، کوئی معلمہ تو کوئی خانہ دار خاتون۔ان گونا گوں مصروفیات کے باوجود ان بہنوں کا معیار ی تخلیقی عمل لائق صد آفرین ہے۔
یہ کل ۰۱ دس بھائی بہن ہیں۔ شمیم زہرہ، ڈاکٹر مینا نقوی، نزہت عباس، فرحت زیدی، ڈاکٹر نصرت مہدی، علینہ عطرت، ڈاکٹر تبسم اور طلعت زیدی نیز برادران عالی جاہ زیدی اور ایس ۔ ایم ۔ زیدی۔ویسے تو آٹھوں بہنیں شاعرات ہیں لیکن کلام ۵ بہنوں کا ہی منظرِ عام پر آ سکا ہے جن میں شمیم زہرہ، ڈاکٹر مینا نقوی، نزہت عباس، ڈاکٹر نصرت مہدی اور علینہ عترت شامل ہیں۔
بھوپال کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ ان میں سے دو ہمشیرگان یہاں مقیم رہ کر اردو ادب کی بیش بہا خدمات انجام دے رہی ہیں۔

شمیم زہرہ
آپ نظم کی اچھی شاعرہ ہیں۔شمیم زہرہ کی نظموں کی گہرائی، گیرائی، سلاست اور روانی اس صنف میںان کی مہارت کے ثبوت ہیں۔ شمیم زہرہ سترہ نومبر ا±نیس سو اننچاس (1949) میں نگینہ ضلع بجنور یو-پی- میں پیدا ہوئیں۔انھیں اپنے والدین کی پہلی اولاد اور اپنی سات بہنوں اور دو بھائیوں کی بڑی بہن ہونے کا شرف حاصل ہے۔ دادی صاحبہ سیدہ کنیز محسن مرحومہ۔ والد سید التجا حسین مرحوم۔ والدہ سیدہ گوہر بانو مرحومہ کے زیر سایہ پرورش پائی۔ نانا مولوی سید ہمراز حسین مرحوم اور نانی سیدہ فاطمہ مرحومہ تھے۔۔ دادی کا گھر علم و ادب کا گہوارہ تھا۔ گھر میں صاف ستھری اردو زبان بولی جاتی تھی۔ اکثر مشاعرے ہوتے تھے۔ خواتین پردے میں رہ کرمشاعرہ سن سکتی تھیں۔نگینہ میں سادات میں لڑکیوں کو اسکول میں پڑھانے کا رواج نہیں تھا۔ یہ حق صرف لڑکوں کا تھا۔ لیکن شمیم زہرہ کے روشن خیال والد نے مخالفت کے باوجود انھیں قصبے میں لڑکیوں کے واحد اسکول میںتعلیم کے لئیے بھیجا۔ یہ ایک ایسا قدم تھا جس نے آنے والے وقت میں نہ صرف ان کی سات بہنوں کی تعلیم کا راستہ ہموار کیا بلکہ دوسری مسلم لڑکیوں کے والدین کو بھی انکی تعلیم کی طرف راغب کیا۔ دسویں کلاس تک وہاں تعلیم حاصل کی اور انٹر کا امتحان پرائیوٹ دیا ۔
سترہ سال کی عمرمیں1967 میںشمیم زہرہ شادی سید شکیل رضا سے ہوئی جنکا سیلیکشن اسی سال آئی۔ پی۔ایس کے لئے ہوا تھا۔ اور دو سال بعد انہیں مدھیہ پردیش کاڈر الاٹ ہونے پروہ مدھیہ پردیش آ گئے۔ 1979 میں مدھیہ پردیش پی۔ ایس۔ سی کے امتحان میں شمیم زہرہ کاانتخاب ایکسائز ڈپارٹمنٹ کے لئے ہوا۔ وہ اس محکمہ کی پہلی خاتون افسر تھیں۔ 1981 میں نائب تحصیلدار کی پوسٹ پر بھوپال میں پوسٹنگ ہوئی۔ پانچ سال بعد انھیں ‘خواتین و اطفال نشوو نما محکمہ’ کی ضلع افسرکے لئے چن لیا گیا۔ ہوشنگ آباد اور بھوپال کی ضلع و ڈویژن افسر اور ڈٍائرکٹریٹ میں اسسٹنٹ ڈائرکٹر رہیں۔وہاں کل 14 سال تک کام کرنے کے بعد ریونیو ڈپارٹمنٹ میں سیکریٹرئیٹ میں اور پھر ضلع بھوپال میں ایس۔ ڈی۔ ایم(ڈپٹی کلکٹر) رہکر نومبر 2009 میں رٹائر ہوئیں۔
گھر اور ملازمت کی مصروفیات کے بیچ اردو اور ہندی میں نظمیں اور غزلیں لکھنے کا سلسلہ بھی رک رک کر چلتا رہا جو بانو۔ بیسویں صدی۔ شمع۔اردو اکیڈمی کے رسالے ‘تمثیل’، کاروان ادب اور ہندی رسالوں راگ بھوپالی، آکانکشا وغیرہ میں چھپتے رہے۔ آکاشوانی اور دور درشن پر بھی پروگرامس میں شامل ہوتی رہیں۔ مشاعروں میں بہت کم شریک رہی ہیں ۔شوہر سابق ڈی۔جی۔پی۔ جناب شکیل رضا کی طویل علالت اور ۵۱۰۲ میں ان کے انتقال کے سبب تقریباً ۵۱ برس تخلیقی میدان سے دور رہیں۔ کچھ مہینوں سے لکھنا پھر سے شروع کیا ہے۔ ابھی دو نظمیں ماہنامہ تریاق کے اکتوبر اور فروری کے شمارے میں شائع ہوئی ہیں۔ آکاشوانی سے پروگرام ہوئے ہیں فیس بک پر بھی کلام شیئر کرتی ہیں۔ مشاعروں میںشرکت بھی شروع کردی ہے۔ مجموعہ زیرِترتیب ہے۔
نظم ” خوشبوئیں “
شام کے سرمئی آنچل سے بکھر جاتی ہے
وقت اور فاصلے پل بھر میں مٹا دیتی ہے
صبح کے نور میں کچھ اور نکھر جاتی ہے
میری تنہائی کو گلزار بنا دیتی ہے
کچھ محبت بھری یادوں کی شناسا خوشبو

کوئی خوشبو ہے جو آنچل میں چھپا لیتی تھی
تھپکیاں دیتی تھی لوری بھی سناتی تھی مجھے
ایک وہ بھی ہے جو سائے کی طرح چھائی تھی
نئی دنیا کی نئی راہ دکھاتی تھی مجھے
مشکلوں میں میری جو اب ہے دلاسا خوشبو

دوستی اور محبت کی دھنک پھولوں کی
جو تصور میں کئی رنگ سے بھر جاتی ہے
شمع سی جلتی ہے ندیا سی بہا کرتی ہے
سانس میں گھلتی ہے احساس کو مہکاتی ہے
بن گئی جو میرے جذبات کا ہالہ خوشبو

ایک خوشبو ہے جو تقدیر کا فرمان بنی
جو میرا نام بنی نام کی پہچان بنی
میری ہستی کے لئے عالم امکان بنی
وسعت فکر و نظر زیست کا عنوان بنی
میری ہر سوچ ہر ایک راہ پہ سایہ خوشبو

جن پہ چاہت میری بادل کی طرح برسی ہے
توتلی باتوں نے ماں ہونے کی عظمت دی ہے
رات بھر سوئی نہ دن چین سے کاٹا اکثر
جس نے ان پھول سے بچوں کی حفاظت کی ہے
گھر کے آنگن میں مہکتی ہوئی ممتا خوشبو

ایک خوشبو ہے میری ذات کی خودداری کی
جس نے کانٹوں سے بھری راہ مجھے بخشی ہے
میرے ہونے کا ایک احساس دیا ہے جس نے

آسماں چھونے کی اک چاہ مجھے بخشی ہے
میری نس نس میں بسی ہے جو وہ تنہا خوشبو

میری تنہائی کو گلزار بنا دیتی ہے
کچھ محبت بھری یادوں کی شناسا خوشبو

نظم ©”آواز فن“
دن مہینے برس ہٹاتی ہوئی
بیچ کے فاصلے مٹاتی ہوئی
دل میں کیا روح میں سماتی ہوئی
جیسے جادو کوئی جگاتی ہوئی
صبح کی تازگی کے ساتھ ہوا
جیسے کلیوں کے پاس آتی ہے
اسکی آواز ایسے آتی ہے

رات گہری بنا کنارا ہو
نہ کوئی چاند نہ ستارا ہو
کوئی ساتھی ہو نہ سہارا ہو
نہ سحر کا کوئی اشارا ہو
نا امیدی کے گھپ اندھیرے میں
جیسے اک شمع جھلملاتی ہے
اسکی آواز ایسے آتی ہے
گمشدہ ذات کے ٹھکانوں سے
وقت کے مٹ چلے نشانوں سے
جیسے آئی ہو آسمانوں سے
جانے کن اجنبی جہانوں سے
موت کی سمت بڑھتے قدموں کو
جیسے پھر زندگی بلاتی ہے

اسکی آواز ایسے آتی ہے
گھیر لیتی ہے مجھکو راہوں میں
روشنی سی ہے اب نگاہوں میں
خود کو پاتی ہوں میں پناہوں میں
کیسا جادو ہے اسکی باہوں میں
رنگ اور نور سا برستا ہے
جیسے دنیا نئی دکھاتی ہے
اسکی آواز ایسے آتی ہے

اسکی آواز میری چاہت ہے
میرا فن ہے وہ میری دولت ہے
میری کھوئی ہوئی محبت ہے
درد ہے میرا میری قسمت ہے
کھو کئی تھی کہیں فضاو¿ں میں
جیسے وہ مجھکو آزماتی ہے
اسکی آواز ایسے آتی ہے

غزل
کیا شے ہے جہاں نشاں نہیں ہے
کس روز میرا امتحاں نہیں ہے
ہر سانس میں تو بسا ہوا ہے
کیسے کہوں تویہاںنہیں ہے
سایہ ہے تیری محبتوں کا
سر پر میرے آسماں نہیں ہے
آئی ہے تیرے پاس سے گزر کر

ایسے ہی صبا شادماں نہیں ہے
تاروں میں ہے تیری جھلملاہٹ
یہ رات یونہی مہرباں نہیں ہے
وہ چاند ہو پھول ہو کہ خوشبو
کس چیز میں تو نہاں نہیں ہے
ہر راستا جا رہا ہے تجھ تگ
یہ تو بتا تو کہاں نہیں ہے

غزل
کوئی سوال شکایت کوئی طلب بھی نہیں
میں کیوں اداس ہوں آخر، کوئی سبب بھی نہیں
کوئی ملے بھی تو دل کو سکوں نہیں ملتا
جو دور جائے تو دل کو قرار تب بھی نہیں
زمانے بھر کو تو جینے کا درس دیتی ہوں
خود اپنے آپ کا لیکن علاج اب بھی نہیں
کہا کہ آو¿ اٹھو سیر کرنے چلتے ہیں
تاثرات بھی الٹے ہیں زیر لب بھی نہیں
تمہاری ضد سے پریشان ہو چکی ہی ‘شمیم’
تمہیں سدھارنا ہوگا کہوںگی جب بھی نہیں

پتہ : شمیم زہرہ، ۱ سرسوتی نگر، جواہر چوک، بھوپال۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر مینا نقوی
اصل نام ڈاکٹرمنیر زہرا، قلمی نام….مینا نقوی، والد….سید التجا حسین مرحوم۔ جائے پیدائش….نگینہ ضلع بجنور..یو.پی۔ تعلیم…ایم ..اے..( ہندی.انگریزی..سنسکرت )، بی .اے. ایم. ایس۔ پیشہ۔۔۔ میڈیکل پریکٹس۔تخلیقات:شعری مجموعہ۔سائبان…(اردو)

بادبان(اردو)۔ درد پت جھڑ کا..(ہندی)،کرچییاں درد کی (اردو)، کرچیاں درد کی (ہندی)جاگتی آنکھیں(اردو)، دھوپ چھاو¿ں
(ہندی)، منزل، عقیدت کے پھول ( حمد و نعت )
نثر، نظم،غزلیں ،تبصرے،مضامین،مقالے ،افسانے .،فیچر،ادبی محفلوں اور مشاعروں میں شرکت۔
ڈاکٹر ہونے کا مطلب ہے دن رات کی مصروفیت ۔خود کا نرسنگ ہوم ہے اس کی ذمہ داریاں مستزاد۔ ایسے میں محوِ حیرت ہوں کہ اتنی شاندار طویل نظموں اور مرصع غزلوں کے لئے وہ کیسے وقت نکال لیتی ہیں۔ان کا کلام پڑھ کر آ پ بھی میری باتوں سے متفق ہوجائیں گے۔

نظم….جواب جانے کیا ہوئے
سوال منتظر رہے جواب جواب جانے کیا ہوئے
وہ سردیوں کی رت کے آفتاب جانے کیا ہوئے
تخیّلات میں سجے وہ کہکشاں کے سلسلے
زمیں سے آسمان تک ستاروں کے وہ قافلے
ہواو¿ں کی گرفت میں میں وہ خوشبوو¿ں کے کارواں
جہاں تھے دل کی دھڑکنوں میں چاہتوں کے گل کھلے
جو رتجگے نگل گئے وہ خواب جانے کیا ہوئے
سوال منتظر رہے جواب جانے کیا ہوئے
تھیں منتظر نگاہ میں جو دستکوں کی آہٹیں
صدی کے اڑدہام میں وہ منجمد سی ساعتں
وہ چھیڑچھاڑ شوخیاں شرارتیں وہ روٹھنا
وہ زیرِ لب دبی دبی مہین مسکراہٹیں
محبتوں کی گندھ کے گلاب جانے کیا ہوئے
سوال منتظر رہے جواب جانے کیا ہوئے
کتاب دل کا صفحہ مرتعش ہے غم کی مار سے
حروف آشنا نہیں خمار سے بہار سے

شکستگی کے خوف سے ورق ودق اداس ہے

ہیں پست سب حقیقتیں فریب کے حصار سے
کتاب کھو گئی کہیں نصاب جانے کیا ہوئے
سوال منتظر رہے جواب جانے کیا ہوئے
غزل
جو لوگ یہ سمجھتے ہیں انساں نہیں یوں میں
ان کو خبر نہیں بے کہ بے جاں نہیں ہوں
خوشبو ہوں ، تازگی ہوں ،گھٹا ہوں، بہار ہوں
بِادِصبا کا لمس ہوں طوفاں نہیں ہوں میں
میرے بدن کو تکتی نگاہوں ..! زرا سنو
چادر حیا کی اوڑھے ہوں عریاں نہیں ہوں میں
ان بوجھ سی پہیلی سلجھتی ہوں پیار سے
مشکل یہی ہے مجھ میں کہ آساں نہیں ہوں
مرضی سے گنگناتی ہوں خود اپنے ساز پر
“مینا کسی کی تال پہ رقصاں نہیں ہوِں میں

> پتہ..مینا نرسنگ ہوم. اغوان پور مراداباد یو پی 244502
> موبایل. 09458836705..9458836705
> ای میل dr.meenanaqvi@gmail.com

نزہت عباس
نزہت عباس کا پورا نام سیدہ نزہت زہرا زیدی ہے۔آپ بھی نگینہ میںتولد ہوئیں۔ والدین اور بزرگ مذہب سے گہری وابستگی کے ساتھ شعر و ادب کے نہایت ستھرے ذوق کے حامل تھے۔ گھر میں کتابوں کا بڑا ذخیرہ موجود تھا۔اردو کے ساتھ عربی فارسی اور انگریزی کتب کی بہت بڑی تعداد موجود تھی۔کانوں میں اذان و تلاوت قرآن کے بعد جو آوازیں سنائی دیں ان میں اردو شعر و ادب کی گونج زیادہ تھی۔ انیس و دبیر گویا بچپن کے استاد تھے۔ چناچپہ بچپن سے ہی نوحہ مرثیہ سوز و سلام نعت و حمد کی طرف نزہت عباس کا رجحان ہونا لازمی تھا۔

 ابتدائی تعلیم نگینہ میں ہوئی۔ شادی سید محمد عبّاس سے ہو گئی جو کراچی پاکستان کے باسی تھے اور پھروہ کراچی آ گئی۔ یہاں مذہبی دینی معلومات اور تعلیم کی طرف دلچسپی بہت زیادہ بڑھی۔ اسلام کی گہری تعلیم حاصل کرنا اسے لوگوں تک پہنچانا زندگی کا مقصد بن گیا۔ مولا نے ذاکرہ کا رتبہ عطا کیا تو اسے نبھانے کی کوشش بھی جاری ہے۔ تعلیم میں اضافہ بھی ہوا اور کچھ سماجی و دینی خدمات کرنے کے مواقع بھی حاصل ہیں جو مختصراً اس طرح ہے۔
ایم اے اسلامک اسٹڈیز ، کارشناسی المصطفیٰ اوپن یونیورسٹی (اختتامی مراحل)، ممبر آف پیس انٹر نیشنل ارگنائزیشن، ممبر آف ایڈوائزری بورڈ آف زینب فاو¿نڈیشن، ممبر آف ذاکرات فاو¿نڈیشنز، ٹیچنگ ان مدارس وغیرہ۔ ظلم کے خلاف آواز اٹھانا اور اسے رائج نہ ہونے دینا اور اقدار انسانی کی حفاظت نزہت عباس کی زندگی کا ہدف اور مقصد بن گیاہے۔
*حمد کریم*
ہر ایک شے¿ میںترا نور جلوہ گر پایا
شعور شکر مگر دل نے مختصر پایا
پکارا تونے جو مجھ کو تو دل رہا مصروف
پکارا میں نے جو تجھ کو تو منتظر پایا
بس ایک تجھ سے ہی ملنا تھا خوف سے خالی
وگرنہ دنیا کے رستوں کو پر خطر پایا
زمانے بھر کی کتابوں سے تشنگی نہ مٹی
بس اک کتاب میں موجود خشک و تر پایا
یہ تیرا نام ہے دل جس سے چین پاتا ہے
وگرنہ دنیا کے رشتوں کو بے ثمر پایا
مدینہ، شام، نجف ، کاظمین و کربل میں
جناب فاطمہ زہرہ کو نوحہ گر پایا
تم ایک ذرہ ہو نزہت بھلا بساط ہی کیا
جہاں کو آل محمد سے بے خبر پایا

©”زمانے بھر کی کتابوں سے تشنگی نہ مٹی ۔بس اک کتاب میں موجود خشک و تر پایا“۔ کیا کہنے۔ بلاغت کی انتہا پر پہنچا ہوا شعر ہے۔ اتنے وسیع مفہوم کو کس چابکدستی سے دو مصرعوں میں باندھ دیا ہے۔ کمال ہے۔

ڈاکٹر نصرت مہدی
آپ سیکرٹری مدھیہ پردیش اردو اکادمی اور ڈپٹی ڈائریکٹر علامہ اقبال مرکز محکمہ ثقافت مدھیہ پردیش بھوپال ہیں۔ اس کے علادہ قومی کونسل براے فروغ اردو زبان میں کونسل اور ایگزیکٹو بورڈ کی ممبر ، سابق چیف ایگزیکٹو آفیسر وقف بورڈ،سابق ایگزیکٹو آفیسر حج کمیٹی بھی رہی ہیں۔ شاعری کے علاہ ڈرامہ اسکرپٹ رائٹنگ میں بھی ماہر ہیں۔ اردو ہندی انگریزی رسائل اور جرائد میں اشاعت کے ساتھ ساتھ ریڈیو ٹیلی ویڑن کے پروگراموں میں سرگرم شرکت ہے۔ عالمی اور کل ہند (امریکا دبئی کویت قطر مسقط پاکستان جدّہ بحرین ریاض) وغیرہ کے مشاعروں سیمیناروں اردو کانفرنسوں میں شرکت کرتی رہتی ہیں۔
شعری مجموعے: 1 سایہ سایہ دھوپ ، 2 آبلہ پا ، 3 میں بھی تو ہوں، 4 گھر آنے کو ہے ۔ ترتیب 1857کی جنگ آزادی، 2 انتخاب سخن ۔اعزازت : ساہتیہ اکادمی بھوپال ایوارڈ 2010 ، ابھینو شبد شلپی سممان 2016 بھوپال، خاتون اودھ لکھنو¿، نشور ایوارڈ کانپور، امرشہید اشفاق اللہ خان ایوارڈ، مظہر سید خان ایوارڈ، قمرشاعرات ایوارڈ، آل انڈیا اردو رابطہ ایوارڈ ، بھارت رتن مدر ٹریسا گولڈ مڈل ایوارڈ 2015۔
ڈاکٹر نصرت مہدی کی شخصیت ، خدمات اور شاعری کے بارے میں کچھ کہنا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے۔آپ کی مشاقی اور آسان لفظوں میں بڑی باتیں کہ جانا قابلِ تعریف ہیں۔

غزل
عشق میں مجنوں و فرہاد نہیں ہونے کے
یہ نئے لوگ ہیں برباد نہیں ہونے کے
یہ جو دعوے ہیں محبّت کے ابھی ہیں جاناں
اور دو چار برس بعد نہیں ہونے کے
کیا کہا توڑ کے لاوگے فلک سے تارے
دیکھو ان باتوں سے ہم شاد نہیں ہونے کے
نقش ہیں دل پہ میرے اب بھی تمہارے وعدے
خیر چھوڑو وہ تمہیں یاد نہیں ہونے کے
گھر لئے پھرتی ہوں ہر وقت تمہارے پیچھے
تم مگر وہ ہو کہ آباد نہیں ہونےکے ہونے کے
منع ہے رسم و رواجوں سے بغاوت کرنا

یہ سبق مجھ کو مگر یاد نہیں ہونے کے
ہم نے خود پہنی ہے نصرت یہ وفا کی زنجیر
ہم تو خود ہی کبھی آزاد نہیں ہونے کے

عاجزی آج ہے ممکن ہے نہ ہو کل مجھ میں
اس طرح عیب نکالو نہ مسلسل مجھ میں
زندگی ہے مری ٹھہرا ہوا پانی جیسے
ایک کنکر سے بھی ہو جا تی ہے ہلچل مجھ میں
آج بھی ہے تری آنکھوں میں تپش صحرا کی
کروٹیں لیتا ہے اب بھی کوئی بادل مجھ میں
خواہشیں آکے لپٹ جاتی ہیں سانپوں کی طرح
جب مہکتا ہے تری یاد کا صندل مجھ میں
اب وہ آیا تو بھٹک جاےگا رستہ نصرت
اب گھنا ہو گیا تنہائی کا جنگل مجھ میں

یہاں ہوا کے سوا رات بھر نہ تھا کوئی
مجھے لگا تھا کوئی ہے مگر نہ تھا کوئی
تھی ایک بھیڑ مگر ہم-سفر نہ تھا کوئی
سفر کے وقت جدائی کا ڈر نہ تھا کوئی
وہ روشنی کی کرن آئی اور چلی بھی گئی
کھلا ہوا مری بستی کا در نہ تھا کوئی
صرف ایک بار وہ بھولا تھا گھر کا دروازہ
پھر اس کے جیسا یہاں دربہ در تھا کوئی
جھلس کے رہ گئے آنگن میں دوھوپ سے پودے

کہ سایہ دار پرانا شجر نہ تھا کوئی
یہ اور بات رہا بے نیاز محفل میں
یوں میرے حال سے وہ بے خبر نہ تھا کوئی

یہاں ہوا کے سوا رات بھر نہ تھا کوئی
مجھے لگا تھا کوئی ہے مگر نہ تھا کوئی
تھی ایک بھیڑ مگر ہم-سفر نہ تھا کوئی
سفر کے وقت جدائی کا ڈر نہ تھا کوئی
وہ روشنی کی کرن آئی اور چلی بھی گئی
کھلا ہوا مری بستی کا در نہ تھا کوئی
صرف ایک بار وہ بھولا تھا گھر کا دروازہ
پھر اس کے جیسا یہاں دربہ در تھا کوئی
جھلس کے رہ گئے آنگن میں دوھوپ سے پودے
کہ سایہ دار پرانا شجر نہ تھا کوئی
یہ اور بات رہا بے نیاز محفل میں
یوں میرے حال سے وہ بے خبر نہ تھا کوئی

علینا عترت

تاریخ پیدای¿ش : ۶ جون، جاے ¿ پیدای¿ش : نگینہ ضلع بجنور، پیشہ : درس و تدریس۔ تخلیقات : سورج تم جاو¿ (مجموعہ¿ کلام شاعری)۔ انعامات : ۱ فروغ اردو اوارڈ (۴۱۰۲)، ۲ دہلی اردو اکادمی سے پہلا انعام (۵۱۰۲)، ۳ بہار اردو اکادمی سے دوسرا انعام (۶۱۰۲)، ۴ نگینہ اوارڈ (۶۱۰۲)، ۵ سوی¿م سدّھا مہلا اوارڈ (۷۱۰۲)۔ مضامین اور شاعری کی مشہور رسالوں اور اخبارات میں اشاعت۔ ریڈیو ،ٹی وی پروگرامس میں شرکت جیسے بچوں اور خواتین کی کہانیاں ،بات چیت ،مشاعرہ وغیرہ میں سر گرم حصّے داری، قومی اور ینن الاقوامی سیمنار ورکشاپ مشاعروں میں سر گرم حصے داری،
بین الاقوامی پروگرام: لاہور پاکستان ۔سہ روزہ بین الاقوامی سیمنار اور مشاعرہ الحمرہ لاہور( نومبر ۲۱۰۲)، بحرین : بین الاقوامی مشاعرہ (۸۱ فروری ۶۱۰۲)، دوحہ قطر ۔ سہ روزہ بین الاقوامی سیمنار اور مشاعرہ دوحہ قطر ( ۷۲،۸۲،۹۲ نومبر ۶۱۰۲)، کویت

بین الا قوامی مشاعرہ (۶۱ دسمبر ۶۱۰۲)، ابو ظہبی بین الا قوامی مشاعرہ ابو ظہبی (یو اے ای) (۹ مارچ ۷۱۰۲ )
علینا عترت اور میں(مسلم سلیم) ۵۱۰۲ کے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے مشاعرے میں ساتھ ساتھ تھے۔ میں پڑھ چکا تھا اور ان کی باری آنے والی تھی۔ تبھی عمران پرتاپگڈھی کی زوردار آمد ہوئی۔ سب انھیں کے منتظر تھے۔ اب تو یہ حال تھا کہ سامعین کسی اور کو سننا ہی نہیں چاہتے تھے ۔ بڑے بڑے شاعر ہوٹ ہو رہے تھے۔ ایسے میں علینا عترت   کو دعوتِ سخن دی گئی۔ انھوں نے جس پروقار انداز میں غزل سرائی کی اور دادو تحسین حاصل کی اس سے میں کافی متاثر ہوا تھا۔ تب مجھے معلوم نہیں تھا کہ وہ ان ۵ تاریخ سار بہنوں میں شامل ہیں۔ آپ بھی ان کے بہترین کلام سے محظوظ ہوں۔

غزل

شام کے وقت چراغوں سی جلائی ہوئی میں
گھپ اندھیروں کی منڈیروں پہ سجائی ¿ہوئی میں
دیکھنے والوں کی نظروںکو لگوں سادہ ورق
تیری تحریر میںہوں ایسے چھپائی ہوئی میں
کیا اندھیروں کی حفاظت کے لے ¿ ر کّھی ہوں
اپنی دہلیز پہ خود آپ جلائی ہوئی میں
خاک کر کے مجھے صحرا میں اڑانے والے
دیکھ رقصاں ہوں سر دشت اڑائی ہوئی میں
لوگ افسانہ سمجھ کر مجھے سنتے ہی رہے
درحقیقت ہوں حقیقت سے بنائی ہوئی میں
میری آنکھوں میں سمایا ہوا کوئی چہرا
اور اس چہرے کی آنکھوں میں سمائی ہوئی میں
کتنی حیران ہے دنیا کے مقدّر کی نہیں
اپنی تد بیر کے ہاتھوں ہوں بنائی ہوئی میں
میرے انداز پہ تا دیر علینا وہ ہنسا
ذکر میں اس کے تھی یوں خود کی بھلائی ہوئی میں

غزل
زندہ رہنے کی یہ ترکیب نکالی میں نے
اپنے ہونے کی خبر سب سے چھپا لی میں نے
جب زمیں ریت کی مانند سرکتی پائی
آسماں تھام لیا جان بچا لی میں نے
اپنے سورج کی تمازت کا بھرم رکھنے کو
نرم چھاو¿ں میں کڑی دھوپ ملا لی میں نے
مرحلہ کوئی جدائی کا جو درپیش ہوا
تو تبسّم کی ردا غم کو اوڑھا لی میں نے
ایک لمحے کو تری سمت سے اٹّھ بادل
اور بارش کی سی امّید لگا لی میں نے
بعد مدّت مجھے آئی بڑے چین کی نیند
خاک جب اوڑھ لی جب خاک بچھا لی میں نے
جو علینا نے سر عرش دعا بھیجی تھی
اس کی تاثیر یہیں فرش پہ پا لی میں نے

غزل
خزاں کی زرد سی رنگت بدل بھی سکتی ہے
بہار آنے کی صورت نکل بھی سکتی ہے
جلا کے شمع اب اٹھ اٹھ کے دیکھنا چھوڑو
وہ ذمّے داری سے از خود پگھل بھی سکتی ہے
ہے شرط صبح کے رستے سے ہو کے شام آے ¿
تو رات اس کو سحر میں بدل بھی سکتی ہے
ذرا سنبھل کے جلانا عقیدتوں کے چراغ

بھڑک نہ جائیں کہ مسند یہ جل بھی سکتی ہے
ابھی تو چاک پہ جاری ہے رقص مٹّی کا
ابھی کمہار کی نیّت بدل بھی سکتی ہے
یہ آفتاب سے کہہ دو کہ فاصلہ رکّھے
تپش سے برف کی دیوار گل بھی سکتی ہے
ترے نہ آنے کی تشریح کچھ ضروری نہیں
کہ تیرے آتے ہی دنیا بدل بھی سکتی ہے
کوی ¿ ضروری نہیں وہ ہی دل کو شاد کرے
علینا آپ طبیعت بہل بھی سکتی ہے

پتہ: علینا عطرت، 49-A۔ دھول گری اپارٹمنٹ، سیکٹر۔۱۱، نزد نہرو یوا کیندر، نوئیڈا۔201301
موبائل :8882688571
Email-aleenaitrat@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *