Why no Pakistan PM could complete 5 years?

pak pmپاکستان میں ایک بھی PM نہیں پورے کر پایا 5 سال، یہ ہے وجہ
پاکستان کی پہلی خاتون وزیر اعظم رہیں بے نظیر بھٹو اور X پی ایم یوسف رضا گیلانی.
انٹرنیشنل ڈےسكپاكستان کے وزیر اعظم نواز شریف کی پاناما کیس میں مجرم پائے جانے کے بعد کرسی چھن گئی ہے. وہ تین بار ملک کے وزیر اعظم بنے، لیکن ایک بار بھی وہ اپنا پانچ سالہ مدت مکمل نہیں کر پائے. تاہم، وہ اکیلے نہیں ہے. پاکستان کا کوئی بھی وزیر اعظم آج تک اپنا پانچ سالہ مدت مکمل نہیں کر پایا. یہاں ہم ملک کے تمام وزیر اعظم اور ان کی مدت کے بارے میں بتا رہے ہیں. آگے کی سلائڈ میں جانیں کس وزیر اعظم کو کیوں چھوڑنی پڑی کرسی ….
لیاقت علی خان
اگست 1947 – اکتوبر 1951
قریب 4 سال
مسلم لیگ پارٹی کے لیاقت علی خان گورنر جنرل نے پاکستان کا پہلا وزیر اعظم مقرر کیا تھا. 1951 میں ان کا قتل کر دی گئی تھی، جس کے بعد خواجہ نظام الدین نے یہ عہدہ سنبھالا تھا.
خواجہ نظام الدین
اکتوبر 1951 – اپریل 1953
قریب ڈیڑھ سال
پاکستان کے پہلے بنگالی لیڈر اور مسلم لیگ کے رکن خواجہ نظام الدین نے ملک کے دوسرے وزیر اعظم کے طور پر 1951 میں ذمہ داری سنبھالی. 1953 میں گورنر جنرل ملک غلام نے انہیں عہدے سے ہٹا دیا تھا.

محمد علی بوگرا
اپریل 1953 – اگست 1955
ڈھائی سال
مسلم لیگ کے خواجہ نظام الدین کو ہٹا کر پی ایم بنے بنے بوگرا پاکستان کی پليٹكس کا جانا مانا نام تھے. گورنر جنرل ملک غلام نے ان کی حکومت کو 1954 میں مسترد کر دیا تھا. اسی سال ہوئے امچناو کے بعد بوگرا پھر پی ایم بنے، لیکن ملک کے پہلے صدر اسکندر علی مرزا نے انہیں 1955 میں عہدے سے ہٹا دیا.

چودھری محمد علی
اگست 1955 – ستمبر 1956
قریب 1 سال
مسلم لیگ کے ہی علی نے 1955 میں وزیر اعظم کا آفس سنبھالا تھا. وہ 1956 کا آئین بنانے والے اہم کھلاڑیوں میں سے ایک مانے جاتے تھے. صدر اسکندر سے تنازعہ کے چلتے انہوں نے 1956 میں استعفی دے دیا تھا.

حسین شاہد سهراوردے
ستمبر 1956 – اکتوبر 1957
قریب 1 سال
سهروردے پہلے پی ایم تھے جو مسلم لیگ سے نہیں تھے. وہ عوامی لیگ کے رہنما تھے اور آئین ساز اسمبلی کے لئے 1954 میں ہوئے انتخابات میں انہوں نے پارٹی کی قیادت کی تھی. صدر اسکندر علی سے تنازعہ کے سبب انہیں عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا.

ابراہیم اسماعیل چندرگر
اکتوبر 1957 – دسمبر 1957
دو ماہ
سهروردے کو ہٹائے جانے کے بعد اسکندر علی مرزا نے ابراہیم کو نیا وزیر اعظم مقرر کیا. انہوں نے دو ماہ کے لئے ذمہ داری سنبھالی اور دسمبر 1957 میں عہدے سے استعفی دے دیا.
پاکستان میں ایک بھی PM نہیں پورے کر پایا 5 سال، یہ ہے وجہ، international news in hindi، world hindi news

فیروز خان نون
دسمبر 1957 – اکتوبر 1958
قریب 1 سال
اسکندر علی نے 7 ویں پی ایم کے طور پر فیروز خان نون کو مقرر کیا. وہ پاکستان کی چھوٹی سی ریپبلکن لیڈر تھے، لیکن متاثر کن شخصیت والے تھے. 1958 میں جنرل ایوب خان نے ان کا بغاوت کر مارشل لاء نافذ کر دیا.

ذوالفقار علی بھٹو
اگست 1973 – جولائی 1977
قریب 4 سال
ذوالفقار علی بھٹو نے 1973 میں وزیر اعظم بننے کے لئے صدر کے عہدے سے استعفی دیا تھا. چار سال کی حکمرانی کے بعد 1977 میں جنرل محمد جا-الحق نے بھٹو حکومت کا تختہ پلٹ کر دیا. اتنا ہی نہیں، 1979 میں انہیں پھانسی تک دے دی گئی.

محمد خان جونیجو
مارچ 1985 – مئی 1988
قریب 3 سال
ضیاء الحق نے 1977 میں بغاوت کر خود کو صدر کا اعلان کر دیا تھا. اس کے بعد 1985 میں ایک غیر پارٹی الیکشن ہوا، جس میں محمد خان جونیجو کو ملک کا 10 واں وزیراعظم منتخب کیا گیا. تاہم، 1988 میں انہیں آئین کے آٹھویں ترمیم کے بعد صدر نے عہدے سے ہٹا دیا.

بے نظیر بھٹو
دسمبر 1988 سے اگست 1990
اکتوبر 1993 سے نومبر 1996
ملک کی پہلی خاتون وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے اس وقت کے وزیر اعظم محمد خان جونیجو کے بچے مدت کو پورا کیا تھا. پاکستان کے آئین میں ترمیم کے وقت صدر غلام عشق خان نے جونیجو کو عہدے سے ہٹا دیا تھا. اس کے بعد بے نظیر اکتوبر 1993 میں دوبارہ وزیر اعظم بنیں اور 5 نومبر 1996 تک اقتدار سنبھالا. اس دوران پاکستان کے اس وقت کے صدر فاروق لےگھاري نے انہیں کرپشن کے الزام میں ڈسمس کر دیا تھا.

جپھرللاه خان جمالی
نومبر 2002 سے جون 2004
قریب ڈیڑھ سال
پاکستان مسلم لیگ کے چیف جپھرللاه خان جمالی نومبر 2002 میں پاکستان کے وزیر اعظم بنے. جرپھللاه خان انتخابات جیت کر یعنی جمہوری طریقے سے پی ایم بنے. تاہم، وہ بھی اپنی میعاد پوری نہیں کر سکے. میڈیا رپورٹیں کی مانیں تو پاکستان کے اس وقت کے صدر جنرل مشرف ان کی پالیسیوں سے خفا تھے. دونوں کے درمیان کافی اختلافات ہو گئے تھے اور اسی کے چلتے جمالی نے اپنے عہدے سے استعفی دے دیا تھا.

شجاعت حسین
جون 2004 سے اگست 2004
تقریبا تین ماہ
جون 2004 میں جپھرللاه خان جمالی کے استعفی کے بعد شجاعت تین ماہ کے لئے پی ایم بنے. اس کے بعد ان کی جگہ شوکت عزیز نے لی.

شوکت عزیز
اگست 2004 سے نومبر 2007
قریب 3 سال
پاکستان مسلم لیگ کے چیف شوکت عزیز 20 اگست، 2004 کو ملک کے وزیر اعظم بننے اور 16 نومبر، 2007 میں پارلیمنٹ ٹرم مکمل کیا.

یوسف رضا گیلانییوسف رضا گیلانی
25 مارچ 2008 سے 19 جون 2012
قریب 4 سال

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیف یوسف رضا گیلانی 2008 میں ملک کے 10 ویں وزیر اعظم بنے تھے. وہ اپنی میعاد پوری کر پاتے کہ اس کے پہلے پاکستان کی سپریم کورٹ کے حکم کی توہین کے الزام میں ان کی کرسی چلی گئی تھی. گیلانی پر الزام تھا کہ انہوں نے سپریم کورٹ کے انکار کرنے کے باوجود صدر آصف علی زرداری کے خلاف بدعنوانی کے معاملے کو دوبارہ شروع کرنے کے لئے سوئس حکام کو خط لکھا تھا.

راجہ پرویز اشرف
22 جون 2012 سے 25 مارچ 2013
قریب 9 ماہ
پاکستان کے 11 ویں وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف قریب 9 ماہ تک پی ایم رہے. اس دوران انہوں نے پاکستان کے اس وقت کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے بچے ٹرم کو پورا کیا. دراصل، پاکستان کی سپریم کورٹ کے حکم کی توہین کے الزام میں گیلانی کی کرسی چلی گئی تھی. گیلانی پر الزام تھا کہ انہوں نے سپریم کورٹ کے انکار کرنے کے باوجود صدر آصف علی زرداری کے خلاف بدعنوانی کے معاملے کو دوبارہ شروع کرنے کے لئے سوئس حکام کو خط لکھا تھا.

نواز شریف
– 1990 سے 1993
– 1997 سے 1999
– 2013 سے 2017
پاکستان کے 12 ویں وزیر اعظم نواز شریف پہلی بار 1990 میں پی ایم بنے تھے. اس وقت کے صدر غلام عشق خان سے تنازعہ کے چلتے آرمی کے دباؤ میں ان 1993 میں عہدہ چھوڑنا پڑا تھا. تاہم، خان کو بھی اس کے بعد عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا.
1997 میں دوسری بار بنے وزیر اعظم، 2000 میں بغاوت
اس کے بعد نواز نے 1997 میں دوبارہ وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالا. محض تین سال بعد 1999 میں اس وقت کے آرمی چیف پرویز مشرف نے ان کا بغاوت کر دیا.
2013 میں تیسری بار وزیر اعظم بنے
2007 میں شریف پاکستان واپس آئے اور اپنی پارٹی کو مضبوط کرنے میں لگ گئے. 2013 کے جنرل الیکشن میں ان کی پارٹی قومی اسمبلی میں سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری. پاناما کیس میں جمعہ کو سپریم کورٹ نے انہیں نااہل قرار دیا اور انہیں دوبارہ عہدے سے استعفی دینا پڑا.

paakistaan mein ek bhee pm nahin poore kar paaya 5 saal, ye hai vajah
paakistaan kee pahalee mahila peeem raheen benajeer bhutto aur eks peeem yoosuph raja gilaanee.
intaraneshanal desk.paakistaan ke peeem navaaj shareeph kee panaama kes mein doshee pae jaane ke baad kursee chhin gaee hai. vo teen baar desh ke pradhaanamantree bane, lekin ek baar bhee vo apana paanch saal ka kaaryakaal poora nahin kar pae. haalaanki, vo akele nahin hai. paakistaan ka koee bhee peeem aaj tak apana paanch saal ka kaaryakaal poora nahin kar paaya. yahaan ham desh ke sabhee pradhaanamantree aur unake kaaryakaal ke baare mein bata rahe hain. aage kee slaids mein jaanen kis peeem ko kyon chhodanee padee kursee….
liyaakat alee khaan
agast 1947 – aktoobar 1951
kareeb 4 saal
muslim leeg paartee ke liyaakat alee khaan garvanar-janaral ne paakistaan ka pahala pradhaanamantree niyukt kiya tha. 1951 mein unakee hatya kar dee gaee thee, jisake baad khvaaja nijaamuddeen ne ye pad sambhaala tha.
khvaaja nijaamuddeen
aktoobar 1951 – aprail 1953
kareeb dedh saal
paakistaan ke pahale bangaalee leedar aur muslim leeg ke sadasy khvaaja nijaamuddeen ne desh ke doosare peeem ke taur par 1951 mein jimmedaaree sambhaalee. 1953 mein garvanar janaral malik gulaam ne unhen pad se hata diya tha.

muhammad alee bogara
aprail 1953 – agast 1955
kareeb dhaee saal
muslim leeg ke khvaaja nijaamuddeen ko hataakar peeem bane bane bogara paakistaan kee poleetiks ka jaana maana naam the. gavarnar janaral malik gulaam ne unakee sarakaar ko 1954 mein khaarij kar diya tha. isee saal hue aamachunaav ke baad bogara phir peeem bane, lekin desh ke pahale president iskandar alee mirja ne unhen 1955 mein pad se hata diya.

chaudharee muhammad alee
agast 1955 – sitambar 1956
kareeb 1 saal
muslim leeg ke hee alee ne 1955 mein peeem ka ophis sambhaala tha. vo 1956 ka sanvidhaan banaane vaale aham khilaadiyon mein se ek maane jaate the. president iskandar se vivaad ke chalate unhonne 1956 mein isteepha de diya tha.

husain shaahid suharaavarde
sitambar 1956 – aktoobar 1957
kareeb 1 saal
suharavarde pahale peeem the jo muslim leeg se nahin the. vo avaamee leeg ke neta the aur sanvidhaan sabha ke lie 1954 mein hue chunaav mein unhonne paartee ka netrtv kiya tha. president iskandar alee se vivaad ke chalate unhen pad se hata diya gaya tha.

ibraahim ismail chundrigar
aktoobar 1957 – disambar 1957
do maheene
suharavarde ko hatae jaane ke baad iskandar alee mirja ne ibraahim ko naya peeem niyukt kiya. inhonne do maheene ke lie jimmedaaree sambhaalee aur disambar 1957 mein pad se isteepha de diya.
paakistaan mein ek bhee pm nahin poore kar paaya 5 saal, ye hai vajah, intairnational naiws in hindi, world hindi naiws

phiroj khaan noon
disambar 1957 – aktoobar 1958
kareeb 1 saal
iskandar alee ne 7ven peeem ke taur par phiroj khaan noon ko niyukt kiya. vo paakistaan kee chhotee see ripablikan paartee ke leedar the, lekin prabhaavashaalee vyaktitv vaale the. 1958 mein janaral ayoob khaan ne unaka takhtaapalat kar maarshal lo laagoo kar diya.

julphikaar alee bhutto
agast 1973 – julaee 1977
kareeb 4 saal
julphikaar alee bhutto ne 1973 mein peeem banane ke lie president ke pad se isteepha diya tha. chaar saal ke shaasan ke baad 1977 mein janaral muhammad jia-ul hak ne bhutto sarakaar ka takhtaapalat kar diya. itana hee nahin, 1979 mein unhen phaansee tak de dee gaee.

muhammad khaan junejo
maarch 1985 – maee 1988
kareeb 3 saal
jiya ul hak ne 1977 mein takhtaapalat kar khud ko president ghoshit kar diya tha. isake baad 1985 mein ek gair paartee chunaav hua, jisamen muhammad khaan junejo ko desh ka 10vaan peeem chuna gaya. haalaanki, 1988 mein unhen sanvidhaan ke aathaven sanshodhan ke baad president ne pad se hata diya.

benajeer bhutto
disambar 1988 se agast 1990
aktoobar 1993 se navambar 1996
desh kee pahalee mahila pradhaanamantree benajeer bhutto ne tatkaaleen peeem mohammad khaan junejo ke bache kaaryakaal ko poora kiya tha. paakistaan ke sanvidhaan mein sanshodhan ke samay president gulaam ishak khaan ne junejo ko pad se hata diya tha. isake baad benajeer aktoobar 1993 mein dobaara peeem baneen aur 5 navambar 1996 tak satta sambhaalee. is dauraan paakistaan ke tatkaaleen president phaaruk leghaaree ne unhen karapshan ke aarop mein disamis kar diya tha.

japharullaah khaan jamaalee
navambar 2002 se joon 2004
kareeb dedh saal
paakistaan muslim leeg ke cheeph japharullaah khaan jamaalee navambar 2002 mein paakistaan ke peeem bane. jaraphullaah khaan chunaav jeetakar yaanee kee lokataantrik tareeke se peeem bane. haalaanki, ve bhee apana kaaryakaal poora nahin kar sake. meediya riports kee maanen to paakistaan ke tatkaaleen president janaral musharraph unakee neetiyon se khapha the. donon ke beech kaaphee matabhed ho gae the aur isee ke chalate jamaalee ne apane pad se isteepha de diya tha.

shujaat husain
joon 2004 se agast 2004
kareeb teen maheene
joon 2004 mein japharullaah khaan jamaalee ke isteephe ke baad shujaat teen maheene ke lie peeem bane. isake baad unakee jagah shaukat ajeej ne lee.

shaukat ajeej
agast 2004 se navambar 2007
kareeb 3 saal
paakistaan muslim leeg ke cheeph shaukat ajeej 20 agast, 2004 ko desh ke peeem banen aur 16 navambar, 2007 mein paarliyaament tarm poora kiya.

yusuph raja gilaanee
25 maarch 2008 se 19 joon 2012
kareeb 4 saal

paakistaan peepuls paartee ke cheeph yusuph raja gilaanee 2008 mein desh ke 10ven pradhaanamantree bane the. ve apana kaaryakaal poora kar paate ki isake pahale paakistaan kee supreem kort ke aadesh kee avamaanana ke aarop mein unakee kursee chalee gaee thee. gilaanee par aarop tha ki unhonne sa
1466 characters over 5000 maximum:
ुप्रीम कोर्ट के मना करने के बावजूद प्रेसिडेंट आसिफ अली जरदारी के खिलाफ भ्रष्टाचार के मामले को फिर से शुरू करने के लिए स्विस अधिकारियों को लेटर लिखा था। राजा परवेज अशरफ 22 जून 2012 से 25 मार्च 2013 करीब 9 महीने पाकिस्तान के 11वें प्रधानमंत्री राजा परवेज अशरफ करीब 9 महीने तक पीएम रहे। इस दौरान उन्होंने पाकिस्तान के तत्कालीन पीएम युसुफ रजा गिलानी के बचे टर्म को पूरा किया। दरअसल, पाकिस्तान की सुप्रीम कोर्ट के आदेश की अवमानना के आरोप में गिलानी की कुर्सी चली गई थी। गिलानी पर आरोप था कि उन्होंने सुप्रीम कोर्ट के मना करने के बावजूद प्रेसिडेंट आसिफ अली जरदारी के खिलाफ भ्रष्टाचार के मामले को फिर से शुरू करने के लिए स्विस अधिकारियों को लेटर लिखा था। नवाज शरीफ – 1990 से 1993 – 1997 से 1999 – 2013 से 2017 पाकिस्तान के 12वें पीएम नवाज शरीफ पहली बार 1990 में पीएम बने थे। तत्कालीन प्रेसिडेंट गुलाम इशक खान से विवाद के चलते आर्मी के दबाव में उन्हें 1993 में पद छोड़ना पड़ा था। हालांकि, खान को भी इसके बाद पद से हटा दिया गया था। 1997 में दूसरी बार बने पीएम, 2000 में तख्तापलट इसके बाद नवाज ने 1997 में दोबारा प्रधानमंत्री का पद संभाला। महज तीन साल बाद 1999 में तत्कालीन आर्मी चीफ परवेज मुशर्रफ ने उनका तख्तापलट कर दिया। 2013 में तीसरी बार पीएम बने 2007 में शरीफ पाकिस्तान लौटे और अपनी पार्टी को मजबूत करने में जुट गए। 2013 के जनरल इलेक्शन में उनकी पार्टी नेशनल असेंबली में सबसे बड़ी पार्टी बनकर उभरी। पनामा केस में शुक्रवार को सुप्रीम कोर्ट ने उन्हें अयोग्य घोषित कर दिया और उन्हें फिर पद से इस्तीफा देना पड़ा।
पाकिस्तान में एक भी PM नहीं पूरे कर पाया 5 साल, ये है वजह
पाकिस्तान की पहली महिला पीएम रहीं बेनजीर भुट्टो और एक्स पीएम यूसुफ रजा गिलानी।
इंटरनेशनल डेस्क.पाकिस्तान के पीएम नवाज शरीफ की पनामा केस में दोषी पाए जाने के बाद कुर्सी छिन गई है। वो तीन बार देश के प्रधानमंत्री बने, लेकिन एक बार भी वो अपना पांच साल का कार्यकाल पूरा नहीं कर पाए। हालांकि, वो अकेले नहीं है। पाकिस्तान का कोई भी पीएम आज तक अपना पांच साल का कार्यकाल पूरा नहीं कर पाया। यहां हम देश के सभी प्रधानमंत्री और उनके कार्यकाल के बारे में बता रहे हैं। आगे की स्लाइड्स में जानें किस पीएम को क्यों छोड़नी पड़ी कुर्सी….
लियाकत अली खान
अगस्त 1947 – अक्टूबर 1951
करीब 4 साल
मुस्लिम लीग पार्टी के लियाकत अली खान गर्वनर-जनरल ने पाकिस्तान का पहला प्रधानमंत्री नियुक्त किया था। 1951 में उनकी हत्या कर दी गई थी, जिसके बाद ख्वाजा निजामुद्दीन ने ये पद संभाला था।
ख्वाजा निजामुद्दीन
अक्टूबर 1951 – अप्रैल 1953
करीब डेढ़ साल
पाकिस्तान के पहले बंगाली लीडर और मुस्लिम लीग के सदस्य ख्वाजा निजामुद्दीन ने देश के दूसरे पीएम के तौर पर 1951 में जिम्मेदारी संभाली। 1953 में गर्वनर जनरल मलिक गुलाम ने उन्हें पद से हटा दिया था।

मुहम्मद अली बोगरा
अप्रैल 1953 – अगस्त 1955
करीब ढाई साल
मुस्लिम लीग के ख्वाजा निजामुद्दीन को हटाकर पीएम बने बने बोगरा पाकिस्तान की पॉलीटिक्स का जाना माना नाम थे। गवर्नर जनरल मलिक गुलाम ने उनकी सरकार को 1954 में खारिज कर दिया था। इसी साल हुए आमचुनाव के बाद बोगरा फिर पीएम बने, लेकिन देश के पहले प्रेसिडेंट इस्कंदर अली मिर्जा ने उन्हें 1955 में पद से हटा दिया।

चौधरी मुहम्मद अली
अगस्त 1955 – सितंबर 1956
करीब 1 साल
मुस्लिम लीग के ही अली ने 1955 में पीएम का ऑफिस संभाला था। वो 1956 का संविधान बनाने वाले अहम खिलाड़ियों में से एक माने जाते थे। प्रेसिडेंट इस्कंदर से विवाद के चलते उन्होंने 1956 में इस्तीफा दे दिया था।

हुसैन शाहिद सुहरावर्दे
सितंबर 1956 – अक्टूबर 1957
करीब 1 साल
सुहरवर्दे पहले पीएम थे जो मुस्लिम लीग से नहीं थे। वो अवामी लीग के नेता थे और संविधान सभा के लिए 1954 में हुए चुनाव में उन्होंने पार्टी का नेतृत्व किया था। प्रेसिडेंट इस्कंदर अली से विवाद के चलते उन्हें पद से हटा दिया गया था।

इब्राहिम इस्माइल चुन्द्रिगर
अक्टूबर 1957 – दिसंबर 1957
दो महीने
सुहरवर्दे को हटाए जाने के बाद इस्कंदर अली मिर्जा ने इब्राहिम को नया पीएम नियुक्त किया। इन्होंने दो महीने के लिए जिम्मेदारी संभाली और दिसंबर 1957 में पद से इस्तीफा दे दिया।
पाकिस्तान में एक भी PM नहीं पूरे कर पाया 5 साल, ये है वजह, international news in hindi, world hindi news

फिरोज खान नून
दिसंबर 1957 – अक्टूबर 1958
करीब 1 साल
इस्कंदर अली ने 7वें पीएम के तौर पर फिरोज खान नून को नियुक्त किया। वो पाकिस्तान की छोटी सी रिपब्लिकन पार्टी के लीडर थे, लेकिन प्रभावशाली व्यक्तित्व वाले थे। 1958 में जनरल अयूब खान ने उनका तख्तापलट कर मार्शल लॉ लागू कर दिया।

जुल्फिकार अली भुट्टो
अगस्त 1973 – जुलाई 1977
करीब 4 साल
जुल्फिकार अली भुट्टो ने 1973 में पीएम बनने के लिए प्रेसिडेंट के पद से इस्तीफा दिया था। चार साल के शासन के बाद 1977 में जनरल मुहम्मद जिआ-उल हक ने भुट्टो सरकार का तख्तापलट कर दिया। इतना ही नहीं, 1979 में उन्हें फांसी तक दे दी गई।

मुहम्मद खान जुनेजो
मार्च 1985 – मई 1988
करीब 3 साल
जिया उल हक ने 1977 में तख्तापलट कर खुद को प्रेसिडेंट घोषित कर दिया था। इसके बाद 1985 में एक गैर पार्टी चुनाव हुआ, जिसमें मुहम्मद खान जुनेजो को देश का 10वां पीएम चुना गया। हालांकि, 1988 में उन्हें संविधान के आठवें संशोधन के बाद प्रेसिडेंट ने पद से हटा दिया।

बेनजीर भुट्टो
दिसंबर 1988 से अगस्त 1990
अक्टूबर 1993 से नवंबर 1996
देश की पहली महिला प्रधानमंत्री बेनजीर भुट्टो ने तत्कालीन पीएम मोहम्मद खान जुनेजो के बचे कार्यकाल को पूरा किया था। पाकिस्तान के संविधान में संशोधन के समय प्रेसिडेंट गुलाम इशक खान ने जुनेजो को पद से हटा दिया था। इसके बाद बेनजीर अक्टूबर 1993 में दोबारा पीएम बनीं और 5 नवंबर 1996 तक सत्ता संभाली। इस दौरान पाकिस्तान के तत्कालीन प्रेसिडेंट फारुक लेघारी ने उन्हें करप्शन के आरोप में डिसमिस कर दिया था।

जफरउल्लाह खान जमाली
नवंबर 2002 से जून 2004
करीब डेढ़ साल
पाकिस्तान मुस्लिम लीग के चीफ जफरउल्लाह खान जमाली नवंबर 2002 में पाकिस्तान के पीएम बने। जरफउल्लाह खान चुनाव जीतकर यानी की लोकतांत्रिक तरीके से पीएम बने। हालांकि, वे भी अपना कार्यकाल पूरा नहीं कर सके। मीडिया रिपोर्ट्स की मानें तो पाकिस्तान के तत्कालीन प्रेसिडेंट जनरल मुशर्रफ उनकी नीतियों से खफा थे। दोनों के बीच काफी मतभेद हो गए थे और इसी के चलते जमाली ने अपने पद से इस्तीफा दे दिया था।

शुजात हुसैन
जून 2004 से अगस्त 2004
करीब तीन महीने
जून 2004 में जफरउल्लाह खान जमाली के इस्तीफे के बाद शुजात तीन महीने के लिए पीएम बने। इसके बाद उनकी जगह शौकत अजीज ने ली।

शौकत अजीज
अगस्त 2004 से नवंबर 2007
करीब 3 साल
पाकिस्तान मुस्लिम लीग के चीफ शौकत अजीज 20 अगस्त, 2004 को देश के पीएम बनें और 16 नवंबर, 2007 में पार्लियामेंट टर्म पूरा किया।

युसुफ रजा गिलानी
25 मार्च 2008 से 19 जून 2012
करीब 4 साल

पाकिस्तान पीपुल्स पार्टी के चीफ युसुफ रजा गिलानी 2008 में देश के 10वें प्रधानमंत्री बने थे। वे अपना कार्यकाल पूरा कर पाते कि इसके पहले पाकिस्तान की सुप्रीम कोर्ट के आदेश की अवमानना के आरोप में उनकी कुर्सी चली गई थी। गिलानी पर आरोप था कि उन्होंने सुप्रीम कोर्ट के मना करने के बावजूद प्रेसिडेंट आसिफ अली जरदारी के खिलाफ भ्रष्टाचार के मामले को फिर से शुरू करने के लिए स्विस अधिकारियों को लेटर लिखा था।

राजा परवेज अशरफ
22 जून 2012 से 25 मार्च 2013
करीब 9 महीने
पाकिस्तान के 11वें प्रधानमंत्री राजा परवेज अशरफ करीब 9 महीने तक पीएम रहे। इस दौरान उन्होंने पाकिस्तान के तत्कालीन पीएम युसुफ रजा गिलानी के बचे टर्म को पूरा किया। दरअसल, पाकिस्तान की सुप्रीम कोर्ट के आदेश की अवमानना के आरोप में गिलानी की कुर्सी चली गई थी। गिलानी पर आरोप था कि उन्होंने सुप्रीम कोर्ट के मना करने के बावजूद प्रेसिडेंट आसिफ अली जरदारी के खिलाफ भ्रष्टाचार के मामले को फिर से शुरू करने के लिए स्विस अधिकारियों को लेटर लिखा था।

नवाज शरीफ
– 1990 से 1993
– 1997 से 1999
– 2013 से 2017
पाकिस्तान के 12वें पीएम नवाज शरीफ पहली बार 1990 में पीएम बने थे। तत्कालीन प्रेसिडेंट गुलाम इशक खान से विवाद के चलते आर्मी के दबाव में उन्हें 1993 में पद छोड़ना पड़ा था। हालांकि, खान को भी इसके बाद पद से हटा दिया गया था।
1997 में दूसरी बार बने पीएम, 2000 में तख्तापलट
इसके बाद नवाज ने 1997 में दोबारा प्रधानमंत्री का पद संभाला। महज तीन साल बाद 1999 में तत्कालीन आर्मी चीफ परवेज मुशर्रफ ने उनका तख्तापलट कर दिया।
2013 में तीसरी बार पीएम बने
2007 में शरीफ पाकिस्तान लौटे और अपनी पार्टी को मजबूत करने में जुट गए। 2013 के जनरल इलेक्शन में उनकी पार्टी नेशनल असेंबली में सबसे बड़ी पार्टी बनकर उभरी। पनामा केस में शुक्रवार को सुप्रीम कोर्ट ने उन्हें अयोग्य घोषित कर दिया और उन्हें फिर पद से इस्तीफा देना पड़ा।

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *