Tahira Tabbassum Azmi…..by Azizuddin Khizri

طاہرہ تَبَسُّم اعظمی

برِ صغیر پاک و ہند میں اردو ادب میں شاعرات نے اپنی فکر و تخئیل کے گراں قدر نُقوش چُھوڑے ہیں – اُس خطہ میں جہاں اردو زبان زُبُوں حالی کی کیفیت سے دو چار ہو ، وہاں سے اگر کوئی مُثبت آواز اُبھرے تو توجہ ضرور مبذول کراتی ہے ۔ حال میں ایک شاعرہ کا مطبوعہ کلام ” دھنک ” کے نام سے نگاہ سے گرزا ۔ اُس کی فکر اور اسلوب نے قلب و ذہن پر خوشگوار اثر چُھوڑا ۔ اردو زبان کی وہاں بقا کے بارے میں جس قدر مایُوسی تھی اُس میں قدرے کمی آئی ۔ نوجوان لکھنے والے اردو کی ترویج کے لئے کام کر رہے ہیں –
خطۂ اعظم گڑھ میں شبلی نعمانی علیہ رحمہ کے علم و ادب کے لگائے ہوئے بیج نے ایک تناور درخت بن کر اپنے سائے تلے تشنگانِ علم و ادب کو خوب خوب سیراب کیا ہے وہاں اگر نہ پنپا تو ایک پودا تھا یاسمین کا ۔ وقت گُزرتا گیا آبیاری ہوتی رہی کہ اچانک سر زمینِ راجہ پُور سکرَور سے ایک کونپل نے سر نکالا اور دیکھتے ہی دیکھتے شبلی کے چمن زار میں تَبَسُّم بکھر گیا ، علاقے کے رسالُوں کی ، اخبارات کی پیشانی دَمَک اُٹھی ۔ ایک تیرہ سالہ بچی طاہرہ کی بڑوں جیسی سوچ کی غزل چھپی تو اہلِ علم نے بچی کے والد کو مُبارک باد کے پیغامات بھیجے اور باپ نے عالمِ سر خوشی میں باندازِ تَفاخُر اعلان کر دیا کہ میں اپنی بیٹی کا کلام کتابی شکل میں شایع کرواؤں گا ، مگر قسمت کی ستم ظریفی کہ جب وقت آیا تو خُود چل بسے ۔ بیٹی اپنی لگن سے تعلیم مکمل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی خُدا داد صلاحیتوں کو بروئے کار لاتی رہی اور نظم و نثر میں اپنی تخلیقات مقامی اخبارات و رسائل کی زینت بناتی رہیں ۔ خطۂ اعظم گڑھ نے یُوں تو بہت سے ادیب ، فن کار ، مُبلغ و مُصلح اور شاعر پیدا کئے مگر شاعرہ کوئی نہ تھی ۔ طاہرہ نام کی تَبَسُّم کے تخلص کے ساتھ ابھرتی ہوئی شاعرہ کی غزل جب ایک مقتدر رسالہ میں شایع ہوئے تو ہر طرف سے داد و تحسین ملی – اُس کی پہلی کاوش کے چند اشعار سے بخوبی اندازہ کیا جا سکتا تھا کہ اُس کے اندر مُستقبل کی ایک اچھی شاعرہ کے جوہر چھپے ہوئے ہیں :
نکلنا جُو گھر سے ، سنبھل کر نکلنا
ہر اِک مُوڑ ہے پُر خطر ، دیکھ لینا
مَنَائیں گے اہلِ سیاست ، دِوالی
جلے گا غریبُوں کا گھر، دیکھ لینا
تَبَسُّم ! اگر سَچ کا کچھ حوصلہ ہے
تَو پہلے ہَتھیلی پہ سَر ، دیکھ لینا
اِس غزل پر اہلِ علم کے تحسینی کلمات نے نو آمُوز شاعرہ کے حوصلے بڑھائے۔ لیکن ماحول میں گُھٹن کچھ ایسی تھی کہ باپ کی سر پرستی اور حوصلہ افزائی میں تو بہت کچھ ہو سکتا تھا – باپ کے جانے کے بعد وہ مواقع اُس رسوم و روایات اور خود ساختہ اقدار میں بندھے ہوئے معاشرے میں کہاں – شاعر کو تو سب کچھ سہولیات حاصل مگر ایک شاعرہ کے پنپنے کی راہیں مسدود – اپنی صلاحیتوں کے بوتے پر خود اُستاد ، خود شاگرد کے سہارے تبسم کچھ عرصہ ہی اپنی تخلیقات نظم میں اور پھر نثر میں افسانوں اور کہانیُوں کی صورت رسائل کو بھیجتی رہیں مگر ایک مستور کے لئے ابلاغِ عامہ تک رسائی ناممکن ہوتی گئی – حالات کے جبر نے قلم کی روانی میں روڑے اَٹکائے ، قلم کی روشنائی خشک ہو گئی – حالات نے کچھ ایسی کروٹ لی کہ علمی ادبی سلسلہ بند ہوگیا – کافی عرصہ بعد ۲۰۱۳ میں حالات کچھ ساز گار ہونے پر تبسم نے قلم پھر اُٹھایا اور اپنی کاوشیں منظرِ عام پر لانا شروع کیں تو ایک مُشفق اُستاد ، مرزا غالب کے ہمعصر مُنشی ہر گُوپال تفتہ کے سگر پُوتے پروفیسر ڈاکٹر پرمود لعل ، اردو ادب کے شیدائی شاعر ، متخلص بہ ” یکتا ” کی نظر پڑی تو اُنھوں نے اُسے اپنی شاگردۂ خاص کی حیثیت سے یہ کہتے ہوئے چُن لیا :
” جس کی ہر بات میں تحلیل ہوں آداب و خُلُوص ،
ایسے شاگرد زمانے میں کہاں ملتے ہیں ۔
اُستاد پرمُود یکتا نے شاگردہ کی کتاب “ دھنک “ پہ لکھا :
” تَبَسُّم کب میری شاگرد ہوگئی اور میں اُس کا اُستاد ، یہ نہ تو میں بتا پاؤں گا نہ تبسم ، نہ تو کبھی اُس نے مجھ سے کہا کہ وہ مجھ سے مشورۂ سُخن لینا چاہتی ہے اور نہ مجھے انکار کا موقع دیا ۰۰۰۰ غزلیں ، سانٹ اور تخمیسیں ۰۰۰ سبھی جنوری ۲۰۱۵ سے نومبر ٢٠١٦ کے بیچ کہی گئی ہیں ۰۰۰ اَدبی حلقوں میں طاہرہ تبسم نو آمدہ بھلے ہی ہو ، نَؤ آمُوز نہیں ہے – تبسم کو زبان و بیان پر عبور حاصل ہے ۰۰۰۰” مزید اُستاد نے تبسم کے جن اشعار کی تحسین کی نگاہ سے نشاندہی کی ہے :
میں نے وہ راہ چُھوڑ دی جس پر
راہ بر کا کوئی نشان بھی تھام

آج پھر کُھل کے مُسکرائے ہم
آج پھر آنکھ اپنی بھر آئی

ہار مانیں گے نہ حالات سے اِن شاء الله
ہم کو جینا ہے، تری زلف کے سر ہونے تک

اپنی خداد صلاحیتوں اور اُستاد کی رہنمائی میں تَبَسُّم نے اپنا ادبی سفر جاری رکھا اور بہت کم عرصہ میں ایک مُستند شاعرہ کی حیثیت سے اہلِ علم سے اپنا لُوہا منوا لیا – اسی لئے کہتا ہوں کہ طاہرہ کی شاعری کی مدت کم ہے – تین سال کی محنت اور بندشوں کو عبور کرنے کے بعد جو نقش “ دھنک “ کی صورت ابھرا ہے ، ہمارے سامنے ہے :

جب ہم نے زبان کُھولی ، مَنوایا وجود اپنا
فوراً ہی زمانے کے ماتھے پہ شکن آئی

کاٹ لہجے کی ہو یا باتُوں کے تیکھے تیور
نظر انداز کئے ہم نے، فرامُوش نہیں

مُعجزہ اس نام کا تھا یا تصور کا فُسُوں
یک بیک دل کے چمن کی ، رُت سُہانی ہو گئی

تَبَسُّم ہیں تو بُنیادی طور پر غزل کی شاعرہ مگر تقریباً تمام اصنافِ سُخن میں طبع آزمائی کی ہے، بلکہ اگر کہا جائےکہ بُھولی بسری اصنافِ سُخن کو جلا بخشی تو بیجا نہ ہوگا – تبسم کی مطبوعہ کتاب “ دھنک “ میں ہمیں نظموں ، غزلُوں ، قطعات ، رُباعیات ، تضمینوں ، تخمیسوں ، دوہوں ، گیتوں ، تروینیوں کے ساتھ اٹیلین اور انگریزی صنفِ سُخن سانٹ بھی تکنیکی انداز میں مکمل تخیلقی مہارت کے نَمُونہ کے طور پر ملتے ہیں – غزلیہ شاعری جو گُل و بلبل ، عارض و گیسو ، محبوب کی بے وفائی ، رقیب کے گلے شکوؤں کی داستانوں سے آگے نہ تھی ، تبسم کی غزلوں میں روایات سے انحراف کے بغیر معروضی معاشرتی ناہمواریُوں کے تناظر میں مقصدیت کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے بہت کچھ ملتا ہے –

تبسم کی تمام اصناف میں کاوشوں کے نمُونہ کا یہ مضمُون تو مُتَحمل نہ ہوگا – ایک غزل کے چند اشعار ، ایک رُباعی اور ایک قطعہ :

موسمِ درد میں ، زخمُوں کا تَپَکنا طے تھا
صبر کے جام کا ، اِک روز چَھلکنا طے تھا
کس کو معلوم ، پسِ پردہ جو سِسکی ہے نہاں
چُوڑیُوں کا تو کلائی میں کَھنَکنا طے تھا
یاس کی کوکھ سے پُھوٹی ہے ، اُمیدوں کی کرن
گُھپ اندھرے میں ، ستارُوں کا چمکنا طے تھا
آنکھوں آنکُھوں میں وہ جذبات ہوئے ہیں ظاہر
جن کے اظہار میں ، ہونٹوں کا جھجکنا طے تھا
دل کا آئینہ بھلا کیسے بچاتے آخر
سنگ کے شہر میں ، شیشے کا درکنا طے تھا
گُل کا انجامِ تبسم تھا نگاہوں میں مگر
پھر بھی کلیوں کے مُقَدَّر میں چِٹکنا طے تھا
————
صحرا میں بھی یہ پُھول کھلا دیتی ہے
اور خار ، گُلستاں میں ، اُگا دیتی ہے
چِنگاری بھی پوشیدہ ہے اِس میں ، دیکھو
چُھوٹی سی زباں ، آگ لگا دیتی ہے
_______
بفضلِ خُدا ، سر اُٹھا کر چلے
نظر آئینہ سے ملا کر چلے
کسی کا بُرا ہم نے چاہا نہیں
کسی سے نہ نظریں چُراکر چلے
____________

تَبسُّم اعظمی کی ابتدائی کاوش کو دیکھتے ہوئے موجُودہ تخلیقات کا مُوازنہ کیاجائے ، تو واضح ہوتا ہے کہ طاہرہ ایک فکر لے کر اُٹھیں ، ان کی شاعری محض حظ کی نہیں ، مقصدیت ان کی تخلیقات کا محور ہے ۔ ابتداء تا انتہا ، تبسُم نے ، اب تک اپنے اسپِ تَخَیُّل کو ایک مَخصوص رستہ ہی پر دواں رکھا ہے اور جو قوسِ قُزح ، سات رنگوں کی ” دھنک ” شایع کی ہے اردو ادب میں ایک گراں قدر اضافہ ہے ۔ طاہرہ تَبَسُّم نام و نَمود اور شہرت سے بھاگتی ہیں اور آج بھی اپنے کو ” طفلِ مکتب ” کہتی ہیں ، اپنے کلام کی طباعت بھی ، کہتی ہیں کہ محض والد کی خواہش کی تکمیل کی خاطر کی ہے – اپنے اِس مجُوعہ کلام کے لئے تبسُم نے کیا خوب کہا ہے :

” اَشکبَاری میں جُو پُھوٹی ہے تَبَسُّم کی کرن ،
تب کہیں جا کے ، یہ رنگین دھنک اُبھری ہے ۔”

جیسا کہ عرض کیا اِن کی شاعری کا محور مقصدیت ہے ، اپنے گرد و پیش پھیلی ہوئی ناہمواریاں ، ظلم و تَعَدِّی ، کُشت و خون کی ارزانی ، دہشت گردی ، بیجا رسم و رواج ، غربت و افلاس کے سائے ، جنھوں نے غریب سے جینے کا حق چھین لیا ہے ، تبسُم کے قلب کو بَرمَا کر رکھ دیتے ہیں اور وہاں سے جو کچھ نکلتا ہے اُسی کسک کی ترجمانی کرتا نظر آتا ہے ، آنسُو بھی ہیں اُس میں اور آہیں بھی ۔ اِس کے کہنے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ تبسم کے کلام میں قُنُوطیت ہے ، حزن و ملال ہے ، آہ و زاری بھی ہے مگر تَخَلُّص اِن کا تَبَسُّم ہے ، کوئی خوشگوار منظر نظر کے سامنے آگیا تو تبسُم بھی بکھیر دیتی ہیں ۔ جس گرد و پیش میں ، جس ماحول میں زندگی بسر کر رہی ہیں ، وہاں علم و عمل کی راہیں اتنی کُشادہ نہیں ، اِس کے باوجود اِن کا میعاری کلام حیرت و استعجاب سے زیادہ قابلِ رشک نظر آتا ہے – اِن کے کلام کو پڑھتے ہوئے بار بار پروین شاکر یاد آتی ہیں –
اِن کی شاعری کی عمر بہت کم ہے مگر اِس چُھوٹی سی عمر میں اگر کہا جائے اساتذہ کی ہمسری کی ہے ، تو بیجا نہ ہوگا ، اپنی صلاحیتوں کا لُوہا اہلِ علم سے صرف اپنے باپ کی خواہش کی تکمیل کی خاطراپنی خُدا داد صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے مَنوا کر ہی چُھوڑا ۔
تبسم کے کلام سے اگر نمُونہ کے طور پر ایک دوہا ، ایک تروینی اور ایک سانٹ نہ پیش کیا جائے تو بات پُوری نہ ہوگی :
دوہا :
مُنھ پر چِکنِی سب کہیں ، سب جَتلَائیں پیار
جو مُنھ پیچھے ساتھ دے، وہ ہے سَچَّا یار

تروینی :
چیتھڑوں سے ڈھکے ، نیم عریاں بدن
کتنی لاشیں یہاں رہ گئیں بے کفن
اور مزاروں پہ چادر چڑھاتے رہے

سانٹ
دُوستی کے بھیس میں جب دشمنی داخل ہوئی
قند میں اُلفت کی پھر زہرِ ہلاہل گھل گیا
گُل نہیں ، صَیَّاد گُلشن لُوٹنے پر تُل گیا
مکر و فن کے تیر سے رُوحِ چَمَن بِسمِل ہوئی

میری طاہرہ تَبَسُّم کے لئے دعائیں ہیں کہ صحت و تندرستی کے ساتھ یُونہی کشتِ شبلی کی آبیاری کرتی رہیں اور اِن کے کلام کو قُبُولِ عام نصیب ہو !

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *